فهرس الكتاب

الصفحة 84 من 848

ایک دن آپ ایک راہب کے گھر کے پاس سے گزرے، اس کو ''اے راہب'' کہہ کر پکارا۔ راہب جھانکنے لگا۔ عمر رضی اللہ عنہ اس کی طرف دیکھنے لگے اور رونے لگے۔ آپ سے کہا گیا: امیر المومنین! اس کی وجہ سے

آپ کیوں روتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: مجھے اللہ کی کتاب میں اس کا یہ فرمان یاد آگیا: عَامِلَةٌ نَاصِبَةٌ (3) تَصْلَى نَارًا حَامِيَةً (4) (الغاشیۃ:۳۔۴) ''محنت کرنے والے، تھک جانے والے ۔گرم آگ میں داخل ہوں گے ۔''انہی آیات نے مجھے رلایا ہے۔ [1]

آپ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ (النساء:۵۱) میں ''جبت'' کی تفسیر جادو سے اور ''طاغوت'' کی تفسیر شیطان سے کی ہے۔ [2]

[2] المستدرک / الحاکم: ۲/ ۲۷۰

[3] الخلافۃ الراشدۃ والدولۃ الامویۃ، ص: ۳۰۵

[4] تفسیر ابن کثیر: ۴/ ۵۱۳

[5] الفتاویٰ: ۷/ ۴۴

[6] الفتاویٰ: ۱۱/ ۳۸۲

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت