فهرس الكتاب

الصفحة 176 من 691

عیوب موجود ہوں ۔''

۳۔ عروہ بن زبیر سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں:

''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چند یہودی آئے اور کہا: السام علیکم (تم پر ہلاکت ہو) ۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ان کی بات سمجھ لی۔ تو میں نے کہا: تم پر بھی (ہلاکت) ہو اور لعنت ہو۔''

وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''اے عائشہ! رک جاؤ! بے شک اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی پسند کرتا ہے۔ تو میں نے کہا: اے رسول اللہ! کیا آپ نے سنا نہیں جو انھوں نے کہا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''میں نے بھی کہہ دیا: و علیکم (اور تم پر بھی ہو) ۔'' [1]

۴۔ صحیح مسلم کی روایت میں ہے:

''سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ یہودی آئے اور کہا: اے ابو القاسم! السام علیک (آپ پر ہلاکت ہو) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''و علیکم (اور تم پر بھی ہو) ۔''

سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہتی ہیں: ''میں نے کہا بلکہ تم پر ہلاکت و مذمت یا لعنت ہو۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اے عائشہ! تم بدکلامی نہ کرو۔ تو انھوں نے کہا: کیا جو انھوں نے کہا آپ نے نہیں سنا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو انھوں نے کہا کیا میں نے اسے انھیں پر لوٹا نہیں دیا؟ میں نے کہا: و علیکم (اور تم پر بھی ہو) ۔'' [2]

۵۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں فرمایا کرتے تھے:

''اے عائشہ! تم بظاہر ہلکے گناہوں سے ضرور اجتناب کیا کرو۔ کیونکہ اللہ عزوجل ان کے بارے میں بھی باز پرس کرے گا۔'' [3]

سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توجیہات و ارشادات کو بہت جلد قبول کرتیں اور کوشش کرتیں کہ آپ کی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں اس حقیقت پر ان کی یہ روایت دلالت کرتی ہے:

''آپ رضی اللہ عنہا نے ایک بچھونا یا تکیہ خریدا جس میں کچھ تصاویر نقش تھیں ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

[2] اس کی تخریج پیچھے گزر چکی ہے۔

[3] اس کی تخریج پیچھے گزر چکی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت