فهرس الكتاب

الصفحة 533 من 691

لوگوں کی میل کچیل ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں تو اس سے بچنے اور ان سے دُور رہنے کی زیادہ حق دار ہیں ۔ [1]

ازواج مطہرات کو اہل بیت میں شمار نہ کرنے والوں کا ردّ

الف:.... لغوی اعتبار سے:

الاہل للبیت:.... گھر والوں سے مراد اس میں رہنے والے ہیں ۔

اہل القری:.... بستیوں میں رہنے والے۔

الاہل للمذہب:.... مذہب اختیار کرنے والے اور مخصوص اعتقاد رکھنے والے۔

اور بطور مجاز کہا جاتا ہے:

الاہل للرجل:.... مرد کی بیوی اور اس کے ساتھ اولاد بھی شامل ہوتی ہے۔ اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: {وَ سَارَ بِاَہْلِہٖ } (القصص: ۲۹) ''اور اپنے گھر والوں کو لے کر چلا'' یعنی اپنے اہل و عیال کے ساتھ۔

اہلہ اور اہلتہ:.... ہم معنی ہیں ۔

الاہل للنبی صلي اللّٰه عليه وسلم:.... آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ، بیٹیاں ، آپ کے داماد علی رضی اللہ عنہ یا آپ سے متعلقہ دیگر عورتیں ۔

ایک قول یہ بھی ہے کہ اہل سے مراد وہ مرد جو ان کی اولاد سے ہوں ، اس میں پوتے اور نواسے بھی شامل ہیں ۔ اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

{ وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا} (طہ: ۱۳۲)

''اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دے اور اس پر خوب پابند رہ۔''

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

{ إِنَّمَا يُرِيدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا }

(الاحزاب: ۳۳)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت