فهرس الكتاب
آپ نے میرے علاوہ کسی کنواری سے شادی نہیں کی۔'' [1]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ تو بھی ان میں سے ہے اس بات کی دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب ازواج جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوں گی۔
ب:سیّدنا عمار بن یاسر رضی ا للہ عنہما [2] سے روایت ہے:
''جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی تو جبریل امین علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: آپ حفصہ سے رجوع کریں کیونکہ وہ بہت زیادہ روزے رکھنے والی اور بہت زیادہ تہجد گزار ہے اور بے شک وہ جنت میں آپ کی بیوی ہے۔'' [3]
ج:جب سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کا مطالبہ کرتے ہوئے سیّدنا طلحہ وغیرہ کے ساتھ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئیں تو ایک آدمی نے ان کی شان میں بے ادبی اور گستاخی کرنے کی کوشش کی، اس وقت سیّدنا عمار بن یاسر رضی ا للہ عنہما نے فرمایا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوبہ کی شان میں کیا کہہ رہا ہے تو ام المومنین کا احترام کیوں نہیں کرتا اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک وہ جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہوں گی۔ عمار بن یاسر رضی ا للہ عنہما نے سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بات کہی اور وہ خاموش رہے۔ [4]
۵۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آیاتِ تخییر نازل ہوئیں:
[2] عمار بن یاسر بن عامر ابو الیقظان عنسی رضی اللہ عنہ بنو مخزوم کے آزاد کردہ ہیں ۔ جلیل القدر صحابیٔ رسول اور السابقین الاولین میں سے ہیں ۔ اللہ کی راہ میں انھیں بڑے مصائب جھیلنے پڑے۔ دوبار ہجرت کی اور دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی۔ بدر سمیت تمام غزوات میں شامل رہے۔ بدر و یمامہ میں اللہ تعالیٰ نے انھیں بڑے اجر و مرتبہ سے نوازا۔ ۳۷ ہجری میں وفات پائی۔ (الاستیعاب لابن عبدالبر، ج ۱، ص: ۳۵۱۔ الاصابۃ لابن حجر، ج ۴، ص: ۵۷۵۔)
[3] البزار، ج ۴، ص ۲۳۷، حدیث نمبر ۱۴۰۱۔ الطبرانی، ج ۲۳، ص: ۱۸۸، حدیث نمبر: ۳۰۶۔ حلیۃ الاولیاء لابی نعیم، ج ۲، ص: ۵۰، ہیثمی نے مجمع الزوائد ج ۹، ص: ۲۴۷ میں کہا اسے بزار اور طبرانی نے روایت کیا اور اس کی دونوں اسناد میں حسن بن ابی جعفر نامی ایک راوی ہے جو ضعیف ہے اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح الجامع، حدیث نمبر: ۴۳۵۱ پر اسے حسن کہا ہے۔
[4] فضائل الصحابۃ للامام احمد، ج ۲، ص: ۸۶۸۔