فهرس الكتاب

الصفحة 328 من 691

۱۸۔ القرطبی رحمہ اللہ (ت: ۶۷۱ ہجری) :

آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

''کسی محقق نے کہا: جب یوسف علیہ السلام پر زنا کی تہمت لگائی تو اللہ تعالیٰ نے گود میں پلنے والے ایک بچے کے ذریعہ ان کی براء ت کا اعلان کروایا اور جب مریم رحمہ اللہ پر بہتان لگایا گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی براء ت کا اعلان ان کے نومولود بیٹے عیسیٰ علیہ السلام کے ذریعے کروایا اور عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان تراشا گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی براء ت نہ کسی نومولود کے ذریعے کی اور نہ کسی نبی کے ذریعے اعلان کروایا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی براء ت کا اعلان خود قرآن کے ذریعے کیا اور انھیں تہمت اور بہتان سے پاک دامن قرار دیا۔'' [1]

۱۹۔ النووی رحمہ اللہ (ت: ۶۷۶ ہجری) :

آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

''اس حدیث میں سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت ان ازواج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بیان ہوئی ہے جو اس وقت موجود تھیں اور وہ نو (۹) تھیں ۔ جن میں سے ایک سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں ۔ علماء کے درمیان اس میں قطعًا کوئی اختلاف نہیں ۔ علماء میں اختلاف سیّدہ خدیجہ اور سیّدہ عائشہ رضی ا للہ عنہما کی افضلیت کے بارے میں ہے۔'' [2]

نووی رحمہ اللہ نے مزید فرمایا:

''سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بکثرت صحابہ و تابعین نے احادیث حاصل کیں اور ان کے فضائل و مناقب مشہور و معروف ہیں ۔'' [3]

نیز علامہ نووی رحمہ اللہ نے اس حدیث رسول اللہ کہ ''مجھے سب لوگوں سے زیادہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے محبت ہے .... الحدیث'' پر تعلیق میں فرمایا ہے:

''اس حدیث میں ابوبکر، عمر اور سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہم کے عظیم فضائل کی تصریح ہے۔'' [4]

[2] شرح مسلم للنووی، ج ۴، ص: ۱۳۹۔

[3] تہذیب الاسماء و اللغات للنووی، ج ۱، ص: ۹۴۳۔

[4] شرح مسلم للنووی، ج ۱۵، ص: ۱۵۳۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت