حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے یہی توجیہ نقل کی۔ [1]
اسی طرح حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے بھی علماء کے دونوں فریقوں کے اقوال کی ایسی ہی توجیہ بیان کی ہے۔ [2]
شیخ ابن سعدی کی رائے میں اس مسئلے کی یہی تحقیق راجح ہے۔ [3]
[2] البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر، ج ۴، ص: ۳۲۱۔
[3] التنبیہات اللطیفہ فیما احتوت علیہ العقیدۃ الواسطیۃ من المباحث المنیفہ لابن سعدی، ص: ۱۱۹۔