الصفحة 131 من 132

''یہ اچھی توجیہ ہے ، لیکن قاسم بن ثابت نے ''الدلائل'' میں اسے بعید از قیاس قرار دیا ہے ، کیونکہ سات حروف میں قراء ات کی اجازت تو عہد رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں دی جا چکی تھی ، جبکہ اس وقت لوگوں کی اکثریت لکھنا پڑھنا نہیں جانتی تھی۔ اور وہ لوگ حروف کے مخارج کے سواکچھ نہیں جانتے تھے۔'' [1]

۲:… اس سلسلہ میں دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے سات قسم کے قواعد عامہ مراد ہیں ،جیسے:

(۱) :… میم اور ھائے ضمیرکا صلہ ( ایسی میم زائدہ جو جمع مذکر پر دلالت کرتی ہے) ، اور ان کا عدم ِصلہ۔

(۲) :… ادغام اور اظہار

(۳) :… مد اور قصر

(۴) :… تحقیق ہمزہ اور تخفیف ہمزہ

(۵) :… امالہ اوربغیر امالہ

(۶) :… ساکن کے ساتھ وقف اور حرکت کی طرف اشارہ کے ساتھ

(۷) :… یاء کی فتح اور یائے ساکن کے ساتھ ،اثبات یاء اور حذف ِ یاء کے ساتھ۔

ابو شامہ المقدسی نے اس قول کو اختیار کیا ہے۔ [2]

امام بغوی رحمہ اللہ نے شرح السنہ میں اسی قول کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے:

''سات حروف یہ مراد ہے کہ ہر عرب کا ہر قبیلہ ادغام ، اظہار ،امالہ ، تفخیم ، اشمام ، اتمام ، ہمزہ ، تلیین اورلغات ِعرب کی دیگر وجوہ میں سے جس کا بھی وہ عادی ہے، کے مطابق قراء ۃ کر سکتا ہے۔ یہ قول تمام اقوال سے زیادہ واضح، صحیح اور

[2] المرشد الوجیز ، ابو شامہ ، ص ۱۲۷.

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت