الصفحة 36 من 132

نے {اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآئِ وَ الْمَسٰکِیْنِ} کو بغیر مد کے پڑھا تو عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ اس طرح نہیں پڑھایا۔آپ کو کس طرح پڑھایا ہے ؟ اس نے پوچھا۔ فرمایا:مجھے آپ نے {اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآئِ وَ الْمَسٰکِیْنِ} مد کے ساتھ پڑھایا ہے۔ [1]

چہارم اصول:…

قرآن کریم کو سات حروف اور مختلف قراء ات پرنازل کرنے کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ قراء ت میں توسع کے ذریعے افرادِ امت کے لئے آسانی پیدا کی جائے۔ کیونکہ پوری امت کو ایک ہی حرف کے مطابق قراء ۃ کرنا کافی مشکل ہوتا۔اس کی دلیل اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے: ''فاقرء وا ما تیسر منہ ''

'' ان میں سے جو تمہیں آسان معلوم ہو ، اس کے مطابق پڑھ لو۔ ''

نیز سبعہ أحرف کی روایات میں تعددِّ قراء ات کا جو فلسفہ بیان ہوا ہے ، وہ یہی ہے کہ امت ، خصوصًااہل عرب کے مختلف قبائل کے لئے قرآن کی قراء ۃ میں آسانی کی راہ ہموار کی جائے۔جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار عرض کی:'' میں اللہ سے معافی اور مغفرت کا خواستگار ہوں ، بلاشبہ میری امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی۔'' [2]

اور آپ کا بیان ہے کہ میں نے کہا:''جبریل !مجھے ایک ان پڑھ قوم میں نبی بنا کر بھیجا

امام ابن جزری نے اس روایت کو ذکر کرنے کے لکھا ہے: ''یہ حدیث مد کے باب میں حجت (Authority) اور نص کا درجہ رکھتی ہے اور اس کی سند کے تمام راوی قابل اعتماد اور ثقہ ہیں۔ '' (النشر فی القراء ات العشر ۱-۳۱۵) .

[2] صحیح مسلم ، کتاب ، صلاۃ المسافرین و قصرھا ، باب: بیان أن القرآن علی سبعۃ أحرف ۲-۲۰۳، سنن أبی داؤد ، کتاب: الصلاۃ ، باب: أنزل القرآن علی سبعۃ أحرف ۲-۷۶، سنن النسائی ، کتاب:الإفتتاح ، باب: جامع ما جاء فی القرآن ۲-۱۵۲۔

اورابن حبان نے اس حدیث کا ترجمہ (عنوان ) ان الفاظ میں (قائم) کیا ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب معافی اور مغفرت کی درخواست کیوں کی تھی؟ (صحیح ابن حبان۳-۱۴) .

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت