فهرس الكتاب
۳۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{ وَيَقُولُ الَّذِينَ آمَنُوا } (المائدہ:۵۳)
اس آیت مبارکہ میں امام نافع، مکی، شامی اور ابو جعفر نے {یقولُ} بدون واؤ، برفع اللام، امام ابو عمرو بصری نے { وَيَقُولُ } بالواؤ بنصب اللام اور امام عاصم حمزہ کسائی نے { وَيَقُولُ } بالواؤ برفع اللام پڑھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کلمہ اہل مدینہ، مکہ اور اہل شام کے مصاحف میں {یقول} بدون واؤ، جبکہ اہل کوفہ و بصرہ اور سارے عراقی مصاحف میں { وَيَقُولُ } بالواؤ مرسوم ہے۔ تاکہ ہر شہر کے لوگوں کی قراءت کے موافق ہو جائے۔ [1]
۴۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ } (المائدہ:۵۴)
اس آیت مبارکہ میں امام نافع، شامی اور امام ابو جعفر نے { مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ } بدالین پہلی مکسورہ اور دوسری مجزومہ کے ساتھ پڑھا ہے، جبکہ باقی تمام قراء نے { مَنْ يَرْتَدَّ } ایک مفتوح مشدد دال کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کلمہ مدنی اور شامی مصاحف میں دو دالوں کے ساتھ {یرتدد} لکھا ہوا ہے۔
امام ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے مصحف امام میں بھی اسے دو دالوں کے ساتھ مرسوم دیکھا ہے۔ باقی تمام مصاحف میں ایک دال کے ساتھ { يَرْتَدَّ } مرسوم ہے۔ [2]
۵۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{ وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَكُفْرًا وَتَفْرِيقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ } (التوبہ:۱۰۷)
اس آیت مبارکہ میں نافع، ابن عامر اور ابو جعفر نے {الذین اتخذوا} بدون واؤ پڑھا ہے، جبکہ باقی تمام قراء کرام نے { وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا } بالواؤ پڑھا ہے۔ یہی
[2] المقنع: ۱۰۷، النشر: ۲/۲۵۵.