فهرس الكتاب
وجہ ہے کہ یہ کلمہ مدنی اور شامی مصاحف میں بدون واؤ، جبکہ دیگر مصاحف میں واؤ کے ساتھ لکھا ہوا ہے۔ [1] تاکہ ہر شہر کے لوگوں کی قراءت کے موافق ہو جائے۔
۶۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{ وَمَا أَظُنُّ السَّاعَةَ قَائِمَةً وَلَئِنْ رُدِدْتُ إِلَى رَبِّي لَأَجِدَنَّ خَيْرًا مِنْهَا مُنْقَلَبًا } (الکہف:۳۶)
اس آیت مبارکہ میں نافع، مکی، شامی اور ابو جعفر نے {خیرا منھما} تثنیہ کے صیغے سے جبکہ دیگر تمام قراء کرام نے { خَيْرًا مِنْهَا } مفرد کے صیغے میں پڑھا ہے اور اس کو مدنی، مکی اور شامی مصاحف میں تثنیہ کے صیغے سے {منھما} جبکہ باقی مصاحف میں مفرد کے صیغے سے { مِنْهَا } لکھا ہوا ہے۔ [2]
۷۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{ وَتَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ } (الشعراء: ۲۱۷)
اس آیت میں نافع، ابن عامر اور ابو جعفر نے {فتوکل} فاء کے ساتھ پڑھا ہے اور ان کے مصاحف میں بھی فاء کے ساتھ ہی لکھا ہوا ہے۔ جبکہ دیگر تمام قراء نے { وَتَوَكَّلْ } واؤ کے ساتھ پڑھا ہے اور ان کے مصاحف میں بھی ایسے ہی لکھا ہوا ہے۔ [3]
۸۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{ وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُونِي أَقْتُلْ مُوسَى وَلْيَدْعُ رَبَّهُ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُبَدِّلَ دِينَكُمْ أَوْ أَنْ يُظْهِرَ فِي الْأَرْضِ الْفَسَادَ } (غافر:۲۶)
اس آیت مبارکہ میں چار قراء ات ہیں:
٭ پہلی قراءت:… امام نافع، ابو عمرو بصری اور امام ابو جعفر وَأَن یُظْہِرَ فی الأَرْضِ
[2] اتحاف فضلاء البشر: ۲/۲۱۴۔ کتاب المصاحف: ۱/۲۴۸.
[3] النشر: ۲/۳۳۶.