''تم سب آدم کے ( بیٹے) ہو اور آدم مٹی سے (بنایا گیا) تھا۔ عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، سوائے تقویٰ کے۔'' [1]
سب انسانوں کو بالآخر اللہ کے ہاں لوٹ جانا ہے۔ یوں انجام کے لحاظ سے بھی سب انسان بھائی بھائی ہیں۔ ارشادِ ربانی ہے:
{ وَأَنَّ إِلَى رَبِّكَ الْمُنْتَهَى}
''اور بے شک (سب کا) آپ کے رب ہی کے پاس ٹھکانا ہے۔'' [2]
اور فرمایا:
{ يَاأَيُّهَا الْإِنْسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلَاقِيهِ}
'' اے انسان! بے شک تو اپنے رب کی طرف (جانے کے لیے) سخت محنت کر رہا ہے، بالآخر تو اس سے ملنے والا ہے۔'' [3]
سب انسانوں کا باپ ایک ہے۔ یوں وہ انسان ہونے کے لحاظ سے ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ ارشادِ الٰہی ہے:
{ يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا}
''اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا، اور اسی سے اس کا جوڑا پیدا کرکے ان دونوں سے مرداور عورتیں کثرت سے پھیلا دیے ۔ اور اللہ سے ڈرو جس کے واسطے سے تم آپس میں سوال کرتے ہو، اور
[2] النجم 53:42۔
[3] الانشقاق 84:6۔