فهرس الكتاب

الصفحة 105 من 212

۵۔ استقراء (خاص سے عمومی قاعدہ نکالنا) اور قیاس کی صلاحیت کو بڑھانا۔

۶۔ تجوید کے جمیع بنیادی احکام مثلًا اظہار، اخفاء، ادغام، اقلاب، مدمتصل، مدمنفصل وغیرہ کی زبانی مشق کروانا۔

۷۔ طلباء کو کتاب اللہ کی صحیح تلاوت کی مشق کروانا۔

۸۔ طلباء کو وقف کی علامات کی پہچان کروانا۔

یہ بات واضح رہے کہ یہ اہداف اتنی آسانی سے حاصل نہیں ہوتے، خاص طور وہ اہداف جو تجوید کے احکام سے متعلق ہوتے ہیں اور اس کے درج ذیل اسباب ہیں:

۱۔ تجوید کا موضوع نظری اعتبار سے ایک جدید موضوع ہے کہ جس سے طلباء کو عمومًا مانوسیت نہیں ہوتی کیونکہ وہ اس موضوع کی طبیعت سے واقف نہیں ہوتے۔ انہیں اس بارے مناسب وقت کی ضرورت ہوتی ہے کہ جس میں وہ اس کے متعلق جان سکیں۔

۲۔ تجوید کے تقریبًا تمام مسائل ایسے ہیں کہ جنہیں سیکھنے کے لیے زبانی مہارت کی بھی ضرورت پڑتی ہے، خاص طور وہ مسائل کہ جن کے لیے ایک سے زائد مہارتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ [1] طالب علم سے مناسب وقت اور محنت دونوں مطلوب ہوتے ہیں تا کہ وہ زبانی مشق کے ذریعے اسے اپنی عادت بنا سکے۔

تجوید کے مقاصد اور اہداف بہترین صورت میں حاصل ہوں، اس کے لیے مدرس کو درج ذیل باتوں کو ملحوظ رکھنا چاہیے:

۱۔ کسی مسئلے سے متعلق احکام ومسائل کو شرح وبسط سے بیان کرے۔

۲۔ تفصیل کے بیان کے لیے تعلیمی وسائل سے مدد لینے کا اہتمام کرے۔

۳۔ مثالیں چھوٹی سورتوں سے بیان کرے اور آخری دو پاروں سے ہوں تو کیا ہی خوب ہے! ان دو پاروں کے علاوہ تبھی مثال بیان کرے جبکہ ان سے نہ ملے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت