فهرس الكتاب

الصفحة 58 من 212

اسی طرح انہوں نے تھوڑی اور زیادہ تلاوت کا بھی فرق کیا ہے۔''

اس وقت صورت حال یہ ہے کہ مصاحف قرآنیہ مسلم اور غیر مسلم ممالک میں ہر جگہ کثیر تعداد میں لائبریریوں وغیرہ میں موجود ہیں اور ایک غیر مسلم کے لیے انہیں حاصل کرنا بہت ہی آسان ہے۔ اور اگر کوئی کافر معاذ اللہ! اللہ کی کتاب کی توہین کرنا چاہتا ہے تو اس کے پاس اس کے ہزاروں رستے موجود ہیں۔ پس ان حالات میں بہتر یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہم اپنی سرپرستی میں انہیں قرآن مجید کی تلاوت اور تعلیم کا موقع میسر کریں اور اس تدریس کے دوران ان تک اسلام کی دعوت پہنچائیں، شاید کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت عطا فرمائے اور ان کا سینہ اسلام کے لیے کھول دے۔

جہاں تک مصحف کو چھونے کا مسئلہ ہے تو اس بارے تفصیل ہے:

(۱) حدث اکبر (۲) حدث اصغر

(۳) حیض ونفاس (۴) چھوٹا بچہ

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کہا ہے:

(( مَذْھَبُ الْأَئِمَّۃِ الْأَرْبَعَۃِ أَنَّہٗ لَا یَمَسَّ الْمُصْحَفَ إِلَّا طَاھِرٌ۔ ) ) [1]

''ائمہ اربعہ کا مذہب یہ ہے کہ مصحف کو صرف پاک شخص ہی چھو سکتا ہے۔''

ایک اور جگہ انہوں نے لکھا ہے:

(( وَ أَمَّا مَسُّ الْمُصْحَفِ فَالصَّحِیْحُ أَنَّہٗ یَجِبُ لَہُ الْوُضُوْئُ کَقَوْلِ الْجُمْھُوْرِ وَ ھٰذَا ھُوَ الْمَعْرُوْفُ عَنِ الصَّحَابَۃِ سَعْدٍ وَ سَلْمَانَ وَابْنِ عُمَرَ۔ ) ) [2]

''جہاں تک مصحف کو چھونے کی بات ہے تو اس بارے صحیح قول وہی ہے جو جمہور کا ہے کہ وضو واجب ہے اور یہی فتوی صحابہ مثلًا سعد بن ابی وقاص، سلمان فارسی

[2] مجموع الفتاوی: ۲۱-۲۸۸.

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت