أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ۔ وَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَعَلَیْہِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّہُ لَہُ وَجَائٌ ۔'' [1]
[''اے نوجوانو! تم میں سے جو کوئی شادی کرنے کی استطاعت رکھتا ہو، اس کو نکاح کرلینا چاہیے، کیونکہ وہ نگاہ کو جھکانے والا اور شرم گاہ کو محفوظ کرنے والا ہے اور جو طاقت نہ رکھتا ہو، تو اس کو روزہ رکھنا چاہیے، کیونکہ وہ بے شک اس کے لیے شہوت کو توڑنے والا ہے'']
اس حدیث شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کی استطاعت رکھنے والے نوجوانوں کو نکاح کرنے کی ترغیب دی اور دوسروں کو روزہ رکھنے کی تلقین فرمائی۔
امام ابن عاصم اور امام حاکم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا: ''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
''یَا شَبَابَ قُرَیْشٍ! لَا تَزْنُوْا۔ أَلَا مَنْ حَفِظَ فَرْجَہُ فَلَہُ الْجَنَّۃُ۔'' [2]
[2] کتاب السنۃ، باب ذکر قول النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم ''خیر نسائٍ رکبن الإبل نساء قریش، رقم الحدیث ۱۵۳۵، ص۶۲۶؛ والمستدرک علی الصحیحین، کتاب الحدود، ۴/۳۵۸۔ الفاظِ حدیث المستدرک کے ہیں۔ امام حاکم نے اس کو [مسلم کی شرط پر صحیح] قرار دیا ہے اور حافظ ذہبی نے اس پر سکوت اختیار کیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۴/۳۵۸؛ والتلخیص ۴/۳۵۸) ۔ نیز ملاحظہ ہو: صحیح الترغیب والترھیب ۲/۶۱۸؛ وھامش المسند أبي یعلی ۳/۱۹۔