فهرس الكتاب

الصفحة 169 من 246

باہر تشریف لائے:

'أَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ أَنْقَذَہُ مِنَ النَّارِ۔'' [1]

''تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے، جنہوں نے اس کو (دوزخ کی) آگ سے بچا لیا ہے۔''

صحیح ابن حبان کی روایت میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا:

''قُلْ: ''لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ'' أَشْفَعْ لَکَ بِہَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔''

لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، [2] کہو، میں روزِ قیامت اس کی وجہ سے تمہارے لیے شفاعت کروں گا۔''

لڑکے نے اپنے باپ کی طرف دیکھنا شروع کیا، تو اس کے باپ نے کہا:

''اُنْظُرْ مَا یَقُوْلُ لَکَ أَبُو الْقَاسِمِ صلی اللّٰه علیہ وسلم ۔''

''ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں جو کہہ رہے ہیں اس پر غور کرو۔''

اس پر لڑکے نے کہا:

''أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم ۔'' [3]

[''میں گواہی دیتا ہوں، کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔'']

اس حدیث میں یہ بات واضح ہے، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی بچے کو دعوتِ اسلام دی۔

[2] یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔

[3] الإحسان فی تقریب صحیح ابن حبان، کتاب الجنائز، باب المریض وما یتعلّق بہ، ذکر جواز عیادۃ المرء أھل الذمۃ إذا طمع في إسلامہم، جزء من رقم الحدیث ۲۹۶۰، ۷/۲۲۷۔ شیخ ارناؤوط نے اس کی [سند کو صحیح] کہا ہے۔ (ملاحظہ ہو: ھامش الإحسان ۷/۲۲۷) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت