فهرس الكتاب

الصفحة 179 من 246

''اتَّقِي اللّٰہ وَاصْبِرِيْ۔''

[''اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور صبر کرو'']

وہ کہنے لگی:

''وَمَا تُبَالِيْ بِمُصِیْبَتِيْ۔''

''تمہیں تو میری مصیبت کی پروا نہیں۔''

جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (وہاں سے) تشریف لے گئے، تو اس سے کہا گیا:

''إِنَّہُ لَرَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم ۔''

''یقینا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔''

تو یہ (خبر) اس پر موت کی مانند آئی [1] پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر آئی اور وہاں دربان نہ دیکھے اور اس نے عرض کیا:

''یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَمْ أَعْرِفْکَ۔''

''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا۔''

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ أَوَّلِ الصَّدْمَۃِ۔'' [2]

''یقینا صبر تو وہی ہے، جو صدمہ کے شروع میں ہو۔''

حدیث سے معلوم ہونے والی تین باتیں:

۱: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مصیبت زدہ عورت کو بین وغیرہ کرنے سے منع فرمایا۔ امام نووی حدیث شریف کے فوائد ذکر کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں: ''اس

[2] صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب في الصبر علی المصیبۃ عند الصدمۃ الأولی، رقم الحدیث ۱۵۔ (۹۲۶) ، ۲/۶۳۷۔۶۳۸۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت