ایک صورت یہ ہے، کہ عرب مسلمان عجمی زبانیں سیکھیں اور پیغامِ اسلام غیر عرب لوگوں تک پہنچائیں۔
دوسری صورت یہ ہے، کہ عرب مسلمان مترجمین کے ذریعے سے دعوتِ اسلام عجمی لوگوں تک پہنچائیں۔
تیسری صورت یہ ہے، کہ عجمی لوگ عربی زبان سیکھیں۔ قرآن و سنت کو سمجھیں اور دوسروں کو سمجھائیں۔
الحمد للہ ان تینوں صورتوں کی وساطت سے دعوتِ اسلام کا کام صدیوں سے جاری ہے۔ پہلی صورت کا حکم تو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا۔ امام بخاری نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے:
''أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم أَمَرَہُ أَنْ یَتَعَلَّمَ کِتَابَ الْیَہُوْدِ، حَتَّی کَتَبْتُ لِلنَّبِيِّ صلی اللّٰه علیہ وسلم کُتَبَہُ، وَأَقْرَأْتُہُ کُتَبَہُمْ إِذَا کَتَبُوْا إِلَیْہِ۔'' [1]
[''بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا، کہ وہ یہودیوں کی تحریر