فهرس الكتاب
این کتاب از آسمان دیگر است
ہمیشہ سچے واقعے ہی بیان کرنے چاہیئں مثلًا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پتھر سے مخاطب ہونا اور پتھر کا آپ کو سلام کرنا۔کھجور کے تنے کا رونا وغیرہ۔یہ واقعات انسانی رہنمائی کیلئے کافی ہیں۔
قال:یہ قرآن کتاب حکمت ہے جو اس کے مطابق چلے گا وہ سیدھے راستے پر گامزن ہوگا اور اس راستے میں آرام ہے،رحمت ہے،ان لوگوں نے اللہ کو حاضر و ناظر مانا (ص64)
اقول:''اللہ تعالی کو حاضر و ناظر مانا''یہ جملہ کس قرآنی آیت کا ترجمہ ہے ؟حاضرتو اللہ کے اسماء میں سے نہیں ہے او رنہ ہی یہ صفت قرآن یا حدیث میں بیان ہوئی ہے بلکہ قرآنی فرمان کے مطابق یہ غلط ہے کیونکہ اللہ تعالی نے اپنی صفت یوں بیان کی ہے:
{الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى} (طہ:5)
{ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ}
(الاعراف:54یونس:4الرعد:2الفرقان:59الم السجدہ:11الحدید:4)
اور الحاضر کے معنی ہیں''یہاں موجود''اور یہ معنی متعدد قرآنی آیات میں استعمال ہوا ہے ملاحظہ ہو۔
{وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا} (الکہف:49)
اور جو عمل کئے ہوں گے سب کو حاضر پائیں گے۔
فلما حضروہ قالوا انصتوا۔ (الاحقاف:29)
تو جب وہ (پیغمبر علیہ السلام) کے پاس آئے تو (آپس میں) کہنے لگے کہ خاموش ہوجاؤ۔
{فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَالشَّيَاطِينَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِيًّا} (مریم:68)