الصفحة 109 من 111

اللہ کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ عرش پر ہے ایمان کاجز بلکہ مومن ہونے کیلئے شرط ہے:

مشکوۃ باب اول فی کون الرقبۃ فی الکفارۃ مؤمنۃ کتاب النکاح میں حدیث ہے:

عن معاویۃ بن السلمی قال اتیت رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم فقلت یارسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم ان جاریۃ کانت لی ترعی غنما لی فجئتھا و قد فقدت شاۃ من الغنم فسالتھا عنھا فقالت اکلھا الذئب فاسفت و کنت من بنی آدم فلطمت وجھھا و علی رقبۃ افاعتقہا فقال لہا رسول اللّٰه این اللّٰه ؟فقالت فی السماء فقال من انا؟فقالت انت رسول اللّٰه ! فقال اعتقہارواہ مالک و فی راویۃ مسلم فذکر الحدیث و فیہ قال اعتقہا فانھا مؤمنۃ (باب ما یجوز من العتق فی الرقاب الواجبۃ مؤطا امام مالک)

سیدنا معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میری لونڈی میرا ریوڑ چراتی تھی جب میں اس کے پاس گیا تو میں نے ریوڑ میں سے ایک بکری گم پائی تو میں نے اسکے منہ پر ایک طمانچہ رسید کر دیا اب مجھ پر غلام آزاد کرنا واجب ہے تو کیا میں اسے آزاد کردوں ؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لونڈی سے پوچھا اللہ کہاں ہے ؟اس نے کہا آسمان میں۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں کون ہوں؟اس نے کہا آپ اللہ کے رسول ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے آزا د کردو یہ تو مومنہ ہے۔

یہ حدیث اس بات کی صراحت کررہی ہے کہ جو استواء علی العرش کا اقرار نہیں کرے گا وہ مومن نہیں ہے نیز امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ کتاب التوحید ص80میں یہ حدیث لانے سے پہلے جو باب قائم کرتے ہیں وہ بایں الفاظ ہے:

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت