فهرس الكتاب
باب ذکر التوحید علی ان اقرار بان اللّٰه عزوجل فی السماء من الایمان
اسی طرح امام ابن مندہ الاصبہانی کتاب الایمان میں یہ حدیث اسی باب کے تحت لائے ہیں۔علاوہ ازیں امام عثمان الدارمی کتاب الرد علی الجھیمہ ص 22پر یہ حدیث لکھنے کے بعد فرماتے ہیں:
ففی حدیث رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم ھذا دلیل علی ان الرجل اذا لم یعلم ان اللّٰه عزوجل فی السماء دون الارض فلیس بمؤمن ولو کان عبدا فاعتق لم یجز فی رقبۃ مؤمنۃ اذلا یعلم ان اللّٰه فی السماء الا تری ان رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم جعل امارۃ ایمانہا معرفتہا ان اللّٰه فی السماء و فی قول رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم این اللّٰه ؟تکذیب لقول من یقول ھو فی کل مکان لا یوصف باین لان شیئا لا یخلوا منہ مکان یستحیل ان یقال این ھو؟ولا یقال این الا لمن ھو فی مکان یخلوا منہ مکان ولو کان الامر علی مایدعی ھولاء الزائغۃ لا نکر علیہا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم قولہا و علمہا ولکنہا علمت بہ فصدقہا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم وشھد لہا بالایمان بذلک ولو کان فی الارض کما ھو فی السماء لم یتم ایمانہا حتی تعرفہ فی الارض کما عرفتہ فی السماء۔
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ جب تک انسان یہ عقیدہ نہ رکھے کہ اللہ تعالی آسمان پر ہے زمین پر نہیں اس وقت تک وہ مومن نہیں ہوسکتا اور کسی غلام کو بھی اس وقت تک آزاد کرنا جائز نہیں جب تک وہ یہ اعتقاد نہ رکھے کہ اللہ آسمانوں پر ہے۔کیا آپ کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لونڈی کی اس معرفت کو ایمان قرار دیا کہ جس نے اللہ کے بارے میں کہا تھا کہ وہ آسمانوں میں ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول''اين اللّٰه''(اللہ