الصفحة 58 من 111

عبدالمطلب کو خوشخبری بھیجی کہ آپکا پوتا پیدا ہوا ہے آپ آکر اسے دیکھ لیں۔چنانچہ عبدالمطلب بچے کو دیکھنے آئے تو بی بی آمنہ نے جو کچھ دیکھا تو انہیں بتلا دیا۔

قارئین کرام ! غور کریں کہ نہ سند کا ذکر ہے اور نہ ہی ابن اسحق سے بی بی آمنہ تک کوئی واسطہ ہے حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے السیرۃ النبوۃ صفحہ 205پر یہ واقعہ نقل کیا ہے لیکن سند ندارد۔اگر بالفرض اس روایت کو صحیح بھی مان لیں تب بھی صاحب کتاب کا بیان کردہ واقعہ مبنی پر کذب ہے۔

قال: یہ جتنے بھی موجودات تمہیں نظر آرہے ہیں یہ بات ضروری ہے کہ انہیں کبھی ایسے وجود کا ٹھکانہ حاصل ہو کہ جو کسی کا محتاج نہ ہو۔ (صفحہ 36)

اقول: ہر ایک کا مستقر (ٹھکانہ) الگ الگ ہے۔

{وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّھَا وَ مُسْتَوْدَعَھَا} (ھود:6)

اس کے رہنے کی جگہ اور جہاں وہ سونپا جات ہے اللہ تعالی کے علم میں ہے۔

مولانا صاحب نے یہاں ٹھکانہ اللہ کی ذات کو قراردیا ہے حالانکہ وہ بے مثل اور بے نیاز ہے نہ اس کی اصل ہے اور نہ فرع اور نہ ہی اس کا کوئی ہمسر ہے تو ایسے بادشاہ کے لئے جز بانان صریحًا کفر ہے اللہ تعالی کافرمان ہے:

{وَ جَعَلُوْا لَہٗ مِنْ عِبَادِہٖ جُزْئً ا اِنَّ الْاِنْسَانَ لَکَفُوْرٌ مُّبِیْنٌ} (الزخرف:15)

اور انہوں نے اس کے بندوں میں سے ا س کے لئے اولاد مقرر کی بیشک انسان صریح ناشکرا ہے۔

قال: یہ جتنی بتیاں یہاں جل رہی ہیں یہ ضروری ہے کہ ان کا کوئی مرکز ہو جو کسی دوسرے کا محتاج نہ ہو بلکہ بذات خود جلنے والا ہو۔ (صفحہ 36)

اقول: جس مالک الملک کی تعریف یہ ہو کہ''لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ''اس کے لئے بتوں کی

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت