الصفحة 59 من 111

مثال دینا ہی غلط ہے نیز مرکزی چیز کو جلنے والا کہنا عین شرک ہے کیونکہ آپ نے اسے بھی واجب الوجود قرار دیا علاوہ ازیں مرکز کی مثال دے کر اللہ تعالی کی شان میں عجیب جسارت کا مظاہرہ کیا ہے لسان العرب صفحہ 355جلد5میں ہے کہ:

ومرکز الجند محطہم الذی فیہ رکزوا الرماح

لشکر کا مرکز ان کا وہ ٹھکانہ ہے جس میں وہ تیر گاڑتے ہیں (یعنی جمع کرتے ہیں)

اب بنظر انصاف دیکھ کر بتلائیں کہ یہ مثال اللہ کی شان میں کتنی زبردست گستاخی ہے اللہ تعالی کو مخلوق کا مرکز کہنا بدعتی عقیدہ ہے اہل اسلام کے عقیدے کے خلاف ہے اسلام کا عقیدہ تویہ تھا:

قال الامام ابو عبداللّٰه الحاکم فی معرفۃ علوم الحدیث ص 84 سمعت محمد بن صالح بن ھانی یقول سمت ابابکر محمد بن اسحاق بن خزیمۃ یقول من لم یقربان اللّٰه تعالی علی عرشہ قد استوی فوق سبع سموات فھو کافر بربہ یستتاب فان تاب والا ضربت عنقہ والقی فی بعض المزابل حیث لایتاذی المسلمون المعاھدون بنتن ریح جیفتہ و کان مالہ فیئا لا یرثہ احد من المسلمین اذا المسلم لا یرث الکافر کما قال صلی اللّٰه علیہ وسلم

امام محمد بن اسحق بن خزیمہ فرماتے ہیں کہ جو شخص اس عقیدے کا اظہار نہیں کرتا کہ اللہ تعالی ساتوں آسمانوں کے اوپر عرش پر مستوی ہے تو ایسا شخص اپنے رب سے کفر کا ارتکاب کرتا ہے۔اب ایسے شخص سے توبہ کروائی جائے۔اگر وہ (اپنے عقیدہ بد سے) توبہ کر لیتا ہے تو ٹھیک ہے وگرنہ اسے قتل کر دیا جائے اور اس کی لاش کو گندگی (اور غلاظت کے ڈھیر) پر پھینک دیاجائے تاکہ کسی (صحیح العقیدہ) مسلمان کو

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت