الصفحة 80 من 111

حدیث میں۔ہاں تمہارے مفروضی علم میں کہ جسے باطنی علم کہتے ہو ضرور ہوگی۔جب اللہ تعالی کی ذات و صفات بے مثل ہیں تو پھر اس کے علم کی انتہا تک کیسے پہنچا جائیگا؟یہ تو ان لوگوں کا مذہب ہے جو تشبیہ اور تجسیم کے قائل ہیں۔اللہ کے علم تک پہنچنا ممکن ہے تو ایسی صورت میں اس کی صفات بے مثل نہ رہیں بلکہ ضرور ان کی کوئی تشبیہ لازم آئے گی۔سبحانہ و تعالی عما یقولون علوًا کبیرًا۔

قال: اللہ تعالی فرماتا ہے''انا عرفنا الامانۃ علی السموت والارض۔الخ۔ (صفحہ 43)

اقول:مذکور ہ آیت کی تفسیر میں مولانا صاحب نے جو کچھ کہا ہے یہ سلف صالحین کی تفسیر کے خلاف ہے تفسیر ابن کثیر صفحہ 522جلد 3میں اقوال سلف نقل کرنے کے بعد امام ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

و کل ھذہ الاقوال لاتنافی بینہا بل ھی متفق و راجعۃ الی انہا التکلیف و قبول الاوامر والنواہی بشرطہا وھو انہ ان قام بذلک اثیب و ان ترکہا عوقب فقبلہا الانسان علی ضعفہ وجہلہ و ظلمہ الا من وفق اللّٰه و باللّٰه المستعان۔

ان تمام چیزون میں منافاۃ نہیں ہے بلکہ یہ باہم متفق ہیں اور ان کا مطلب یہ ہے کہ یہ ذمہ داری ہے اور اوامر و نواہی کو (تمام شرائط کے ساتھ) قبول کرنے کے لئے ہے۔اگر (انسان) ان اوامر و نواہی پر قائم رہے تو ثواب و جزا ہے اور اگر ان کو چھوڑ دے تو عذاب و سزا ہوگی۔انسان نے اپنے ضعف اور جہالت کے باوجود انہیں قبول کیا ہاںمگر جس کو اللہ توفیق دے۔اللہ ہی سے مدد مطلوب ہے۔

مگر مقرر صاحب کی بیان کردہ تفسیر میں کئی مفاسد ہیں کہتے ہیں کہ ہم نے آسمانوں اور زمین پر

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت