الصفحة 81 من 111

امانت بھیجی حالانکہ قرآن مجید میں لفظ عرضنا ہے ارسلنا نہیں ہے اور دونوں میں فرق نمایا ہے اگر اللہ نے امانت بھیجی تو وہ واپس کیسے ہوگی۔قال اللہ تعالی:

{مَا نُنَزِّلُ الْمَلَئِکَۃَ اِلَّا بِالْحَقِّ} (الحجر:8)

ہم فرشتوں کو صرف حق کے ساتھ نازل کرتے ہیں۔

یہ ہے وہ تحریف کہ جس پر ساری تقریر کی بنیاد رکھی گئی ہے۔فاذا بطل ھذا بطل ذا۔

ثانیًا: کہتے ہیں کہ یہ امانت دو چیزوں کی تھی ایک یہ کہ ساری مخلوق خصوصا انسان رب تبارکو تعالی کو،اس علم اور معرفت سے پہچانیں کہ جس طرح خداچاہتا ہے۔ (صفحہ 43-44)

اس کا مطلب یہ ہوا کہ آسمان اور زمین اللہ کو پہچانتے ہیں نہیں جبکہ قرآن مجید میں ہے:

{تُسَبِّحُ لَہُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَالْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْہِنَّ وَ اِنْ مِّنْ شَیْئٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدَہٖ وَلٰکِنْ لَّا تَفْقَھُوْنَ تَسْبِیْحَہُمْ} (الاسراء:44)

ساتوں آسمان او رزمین اور جو لوگ ان میں ہیں سب اس کی تسبیح کرتے ہیں اور مخلوقات میں سے ہر چیز اس کی تعریف کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتی ہے لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے۔

{اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یَسْجُدُ لَہُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُوَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَآبُ وَ کَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ وَ کَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْہِ الْعَذَابُ} (الحج:18)

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو مخلوق آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور سورج،چاند،ستارے،اور پہاڑ،اور درخ اور چوپائے اور بہت سے انسان اللہ تعالی کو سجدہ کرتے ہیں اور بہت سے ایس کہ جن پر عذاب ثابت ہوچکا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت