فهرس الكتاب
{ثُمَّ اسْتَوٰی اِلَی السَّمَآئِ وَ ھِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَھَا وَ لِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ کَرْھًا قَالَتَآ اَتَیْنَا طَآئِعِیْنَ} (حم السجدۃ:11)
پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اوروہ (اس وقت) دھواں تھا تو اس نے آسمان اور زمین سے فرمایا دونوں آؤ،خواہ خوشی سے خواہ ناخوشی سے،انہوں نے کہا ہم بخوشی آتے ہیں۔
ثابت ہوا کہ اللہ کی معرفت تمام چیزوں کو ہے۔
ثالثًا: کہتے ہیں کہ آسمان نے دیکھا کہ مجھ میں ایسی کوئی صلاحیت نہیں کہ اللہ کی خالقیت کا حق ادا کروں۔الخ (صفحہ 44)
جی ہاں اللہ تعالی کی عظمت کا پورا حق نہ تو کوئی ذوی العقول ادا کرسکتا ہے اور نہ غیر ذوی العقول۔باقی عبادت تو ساری مخلوق کرتی ہے بلکہ خالقیت کا حق سمجھ کر کرتی ہے۔قَالَتَآ اَتَیْنَا طَآئِعِیْنَ یہ آیت اس بات کا مظہر ہے اوریہ کہنا غلط ہے کہ انسان نے اس امانت کو صحیح طور پر ادا کر دیا تو خالقت کا حق ادا ہو جائے گا۔
بندہ ہمان بہ کہ بتقصیر خویش عذر بدرگاہ خدا آورد
ورنہ سزاوار خداوندیش کس نتواند بجا آورد
رابعًا: کہتے ہیں کہ آسمان کس مخلوق پر انصاف کی نظر کرتا……الخ (صفحہ 44)
اس میں اللہ تعالی کی ذات کا کوئی انکار نہیں ہورہا ہے اللہ تعالی تو کسی سے کوئی بھی کام لے سکتا ہے وہ تو جانوروں سے انصاف کا کام لے سکتا ہے جیسا کہ مسند احمد میں ہے:
ففی مسند امام احمد ص 407 جلد 2 ثنا عفان ثنا حماد بن سلمۃ قال انا اسحق بن عبداللّٰه بن ابی طلحۃ عن ابی صالح عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم فیما یحسب حماد ان رجلا کان یبیع الخمر فی سفینۃ ومعہ فی