فهرس الكتاب
براہ راست 'استصحاب' پر عمل کرنا درست نہیں ہے۔ [1]
امام شوکانی رحمہ اللہ استصحاب کےبارے میں علماے اصول کی آراء کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
''استصحاب حقیقت میں کسی نئے حکم کو ثابت نہیں کرتا، لیکن جو حکم ماضی میں معتبر دلیل سے ثابت تھا وہی اب بھی جاری رہیگا۔اس صورت میں اپنی ذات سے یہ کوئی فقہی دلیل نہیں ہے اور نہ کوئی ایسا ماخذ ہےجس سے احکام مستنبط کیے جائیں۔ یہ تو صرف اس بات کا قرینہ ہے کہ جس دلیل کی بنیاد جو حکم سے پہلے تھا اب بھی وہی باقی ہے۔ نیز کسی مسئلہ میں جب کوئی دلیل موجود نہ ہو اس وقت استصحاب پر عمل کیا جاتا ہے۔ یہ اس وقت ممکن ہے کہ جب فقیہ دلیل تلاش کرنے میں اپنی پوری کوشش کرچکا ہوتا ہے اور اس کو دلیل نہ ملے، اس وقت وہ استصحاب کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اس لیے بقول بعض فتوی کا آخری دارومدار اسی پر ہوتا ہے۔ ایسے وقت میں وہ نفی واثبات میں استصحاب حال کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اگر اس چیز کے زائل ہونے میں کوئی تردد ہو تو اس کو باقی سمجھا جائیگا، اگر وجود میں تردد ہو تو اصل میں اس کا عدم وجود معتبر ہوگا یعنی اسے معدوم سمجھا جائیگا۔'' [2]
اسے اختیار کرنے پر ائمہ اربعہ اور ظاہریہ سب کا اتفاق ہے، اگرچہ ان کے درمیان اختلاف اس کی مقدار میں ہے، یعنی یہ کہ اسے کس حد تک اختیار کیا جائے اور کس حد تک اختیار نہ کیا جائے۔ اسے سب سے زیادہ اختیار کرنے والے ظاہریہ ہیں، پھر حنبلیہ، پھر شافعیہ اور پھر مالکیہ وحنفیہ ہیں۔ اس کا انحصار اس پر ہے کہ جن فقہاء نے قیاس اور استحسان ومصالح کا استعمال کم کیا اور اپنے آپ کو کتاب وسنت اور اجماع ہی کا پاپند رکھا، جیسے ظاہریہ تو انہوں نے دوسروں کی بہ نسبت استصحاب پر عملا زیادہ اعتماد کیا اور جن فقہاء نے قیاس اور استحسان ومصالح کو اختیار کرنے میں توسع دیکھایا جیسے حنفیہ و مالکیہ تو ان کا استصحاب پر اعتماد عملا کم رہا اورجو لوگ اس بارے میں درمیانے رہے،جیسے شافعیہ وحنبلیہ تو وہ استصحاب پر اعتماد کرنے میں بھی درمیانے رہے۔ [3]
استصحاب پر مبنی بعض قواعد
فقہاء نے کئی قواعد فقہیہ کی بنیاد استصحاب پر رکھی ہے، جن میں سے چند اہم مندرجہ ذیل ہیں:
"الأصل بقاء ما كان على ما كان" [4]
[2] إرشاد الفحول: 3؍798
[3] اصول فقہ پر ایک نظر از عاصم حداد: ص 152، 153
[4] الأشباه والنظائر على مذهب أبي حنيفة النعان: ص 87