فهرس الكتاب
''جو جیسا تھا اسے ویسا ہی تسلیم کیا جائے۔''
مثلًا مفقود الخبر شخص کو زندہ تسلیم کیا جائے، جب تک کہ اس کے فوت ہونے کا ثبوت نہ ملے-
"الیقین لا یزول بالشك" [1]
''یقین کو کسی شک کے ذریعے زائل نہیں کیا جاسکتا۔''
مثلا اگر کوئی شخص ماہ رمضان میں سحری کھائے۔ اسے فجر کے طلوع ہونے میں شک ہو او ریہ یقین نہ ہو کہ اس نے طلوع فجر کے بعد کھانا کھایا ہے یا اس سے پہلے کھایا ہے، اس کا روزہ درست ہے اور اس پراس دن کے روزه کی قضا واجب نہیں ہے۔ کھانا کھاتے وقت رات کا ہونا یقینی امر تھا اور فجر کے طلوع ہونے میں شک تھا، لہذا یقین والی چیز پر عمل کیا جائے گا۔ یقین کسی شک کے ذریعے زائل نہیں ہوتا۔
"الأصل براءة الذمة" [2]
''اصول یہ ہے کہ ذمہ داری سے (انسان کو) بری تصور کیا جائے۔''
چنانچہ اس ضابطہ کی رو سے ملزم اس وقت تک الزام سے بری سمجھا جاتا ہے جب تک کہ اس پر الزام ثابت نہ ہوجائے۔
"الأصل في الأشیاء الإباحة" [3]
''اصول یہ ہے کہ تمام چیزیں مباح (جائز) ہیں۔''
ہر قسم کا معاملہ اور تصرف صحیح ہے جب تک کہ شریعت سے اس کے خلاف کوئی دلیل نہ ملے۔ البتہ گوشت اورعورت اس سےمستثنیٰ ہیں۔اگر کسی گوشت کے بارے میں یقین نہ ہو کہ وہ ذبیحہ ہے تو ایسے گوشت کی اصل یہ ہے کہ وہ حرام ہے۔ اسی طرح عورتوں کےساتھ نکاح کی اصل یہ ہے کہ وہ حرام ہیں، ماسوائے اس عورت کے جس سے نکاح کرنا جائز ہو اور اس سے نکاح کرلیا جائے۔
[2] الأشباه والنظائر لإبن نجیم: 1؍89
[3] أميربادشاه، محمد أمين، تیسيرالتحریر: 2؍247، دارالنشر؍دار الفكر، بيروت؛ المیسر في أصول الفقه: ص190