فهرس الكتاب
مبحث ششم:
سابقہ شریعتیں
شرائع مَن قبلنا کا مفہوم
اہل لغت کے ہاں الشريعة کا معنی پانی پینے کی وہ جگہ ہے، جہاں سے لوگ پانی پیتے اور لیتے ہیں۔ [1]
اللہ تعالی نے فرمایا: { ثُمَّ جَعَلْنَٰكَ عَلَىٰ شَرِيعَةٍ مِّنَ الْأَمْرِ } [2]
''پھر ہم نے آپ کو دین کے کھلے رستے پر (قائم) کردیا۔''
سابقہ شریعتوں سے مراد وہ احکام ہیں جو اللہ تعالیٰ نے سابقہ امتوں کے لیے بھیجے تھے اور ان کے نبیوں اور رسولوں پر نازل کئے تاکہ وہ امتوں تک پہنچا دیں۔
'سابقہ شریعتوں' کے احکام کی اقسام
شریعت اسلامی نے سابقہ شریعتوں کے احکام کو کس حد تک منسوخ کیا، کن احکام کو باطل قرار دیا ، کن احکام کو برقرار رکھا اور کن احکام میں تبدیلی وصلاح کی، اس کا جائزہ لینے کے لئے ذیل میں شرائع سابقہ کے احکام کو مختلف اقسام میں تقسیم کیا جارہا ہے، جن سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ شریعت اسلامی میں سابقہ شریعتوں کے احکام کی شرعی حیثیت کیا ہے اورفقہ اسلامی میں ان سے استفادہ کی حدود کار کیا ہیں:
1.عقائد سے متعلق احکام
سابقہ شریعتوں کے احکام کی پہلی قسم ان احکام کو قرار دیا جا سکتا ہے جو عقائد سے متعلق ہیں۔ اس بات پرعلماء کا اتفاق ہے کہ شریعت اسلامی سابقہ تمام شرائع کے تمام احکام کی کلی طور پر تنسیخ نہیں کرتی۔ تمام شریعتیں من جانب اللہ ہیں اور ان تمام شریعتوں میں عقائد یکساں رہے ہیں۔ عقائد کسی ایک رسول کی شریعت کے ساتھ مخصوص نہ تھے،مثلًا اللہ تعالیٰ پر ایمان، فرشتوں پر ایمان، رسول پر ایمان، شریعت اور الہامی کتب پر ایمان،آخرت پر ایمان اور تقدیر پر ایمان وغیرہ۔ یہ سب عقائد
[2] الجاثية 45:18