فهرس الكتاب
سابقہ تمام شریعتوں اور شریعت اسلامی میں مشترکہ ہیں اور ہر شریعت میں لازم ہیں۔ یہ دین کے اصول ہیں اور سابقہ شریعتوں میں پائے جانے والے ان اصول دین کی ہماری شریعت ناسخہ نہیں ہے۔ [1]
2.شریعت اسلامی میں غیر مذکور احکام
سابقہ شریعتوں کے احکام کی دوسری قسم ان احکام پر مشتمل ہے جو شریعت اسلامی میں مذکور نہیں ہیں یعنی قرآن مجید اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم دونوں نے ان احکام کو بیان نہیں فرمایا۔ ان احکام کے بارے میں علما کا متفقہ موقف ہے کہ یہ ہمارے لیے شرعی حجت نہیں ہیں۔ [2]
3.شریعت اسلامی میں منسوخ احکام
شرائع سابقہ کے وہ احکام جو شریعت اسلامی میں بیان تو کیے گئے ہیں لیکن شریعت اسلامی میں ان احکام کے منسوخ ہو جانے کی نصوص بھی پائی جاتی ہیں، تو ایسے احکام ہمارے حق میں بالاتفاق منسوخ متصور ہوں گے۔ شریعت اسلامی سابقہ شرائع کے جن احکام کو منسوخ کرنے والی ہے وہ احکام بالاتفاق اور بلانزاع ہمارے لیے شرعی حجت نہیں ہیں۔ یہ احکام سابقہ امتوں کے لیے ہی خاص تھے اور انہی پر فرض تھے، لیکن یہ امت مسلمہ کے لئے منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ ان احکام پر عمل کرنا شرعًا جائز نہیں ہے۔ اگر ان احکام کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے تو متعلقہ آیات کی تلاوت تو کی جائے کی لیکن ان پر عمل نہیں کیا جائے گا۔ ایسے احکام سے متعلق آیات کی تلاوت باقی ہے، لیکن عمل منسوخ ہے، مثلًا
توبہ: موسوی شریعت میں توبہ کا طریقہ یہ تھا کہ گناہگار اپنی جانوں کو قتل کریں۔ موسوی شریعت میں توبہ کا یہ حکم قرآن مجید کی سورۃ البقرہ میں یوں بیان کیا گیا ہے:
{وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ يَٰقَوْمِ إِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ أَنفُسَكُم بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوبُوٓاْ إِلَىٰ بَارِئِكُمْ فَاقْتُلُوٓاْ أَنفُسَكُمْ ٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ عِندَ بَارِئِكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ} [3]
'' جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم! بچھڑے کو معبود بنا کر تم نے اپنی جانوں پر ظالم کیا ہے، اب تم اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع کرو، اپنے کو آپس میں قتل کرو، تمہاری بہتری اللہ کے نزدیک اسی میں ہے، تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی، وه توبہ قبول کرنے والا اور رحم وکرم کرنے والا ہے۔''
یہ حکم ہمارے حق میں منسوخ ہے امت محمدیہ کی توبہ یہی ہے کہ صدق دل سے اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہ کی معافی چاہی
[2] الوجيز في أصول الفقه للزیدان: ص 21
[3] البقرة 2: 55