فهرس الكتاب
جائے اور آئندہ کے لئے وہ گناہ نہ کرنے کا عزم کیا جائے۔
{ فَمَن تَابَ مِنۢ بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللّٰهَ يَتُوبُ عَلَيْهِۚ إِنَّ اللّٰهَ غَفُور رَّحِيمٌ} [1]
'' جو شخص اپنے گناه کے بعد توبہ کرلے اور اصلاح کرلے تو اللہ تعالیٰ رحمت کے ساتھ اس کی طرف لوٹتا ہے۔ یقینًا اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والا مہربانی کرنے والا ہے۔''
حرمت کا مخصوص دن: بنی اسرائیل پر سبت یعنی ہفتہ کے دن کی حرمت لازم تھی۔ اس حکم کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہے، لیکن یہ حکم ہمارے حق میں منسوخ ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
{ إِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَى الَّذِينَ اخْتَلَفُواْ فِيهِۚ } [2]
'' ہفتے کے دن کی عظمت تو ان لوگوں کے ذمے ہی ضروری کی گئی تھی جنہوں نے اس میں اختلاف کیا تھا۔''
.ناخن والے جانور اور چربی: بنی اسرائیل پر ناخن والے جانور اور گائےو بکری وغیرہ کی چربی حرام تھی۔ اس حرمت کا ذکر قرآن اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم دونوں بنیادی مصادر شریعت میں ہے، لیکن اب یہ حکم ہمارے لیے منسوخ ہے۔ قرآن میں ہے:
{وَعَلَى الَّذِينَ هَادُواْ حَرَّمْنَا كُلَّ ذِي ظُفُرٍۖ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَآ إِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَآ أَوِ الْحَوَايَآ أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍۚ ذَٰلِكَ جَزَيْنَٰهُم بِبَغْيِهِمْۖ وَإِنَّا لَصَٰدِقُونَ} [3]
'' اور یہود پر ہم نے تمام ناخن والے جانور حرام کرد یئے تھے اور گائے اور بکری میں سے ان دونوں کی چربیاں ان پر ہم نے حرام کردی تھیں مگر وه جو ان کی پشت پر یا انتڑیوں میں لگی ہو یا جو ہڈی سے ملی ہو۔ ان کی شرارت کے سبب ہم نے ان کو یہ سزا دی اور ہم یقینًا سچے ہیں۔''
صحیح بخاری میں حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«لعن اللّٰه اليهود حرمت عليهم الشحوم فجملوها فباعوها» [4]
''اللہ تعالیٰ یہود پر لعنت کرے ان پر چربی حرام ہوئی تو انہوں نے اسے پگھلا کر فروخت کیا۔''
4.سابقہ شریعتوں کے لئے حرام اور شریعت اسلامی کے لئے حلال احکام
سابقہ شریعتوں کے احکام کی چوتھی قسم ان احکام کی ہے جن کا ذکر شریعت اسلامی میں یوں ہے کہ وہ سابقہ امتوں کے
[2] النحل 16: 124
[3] الأنعام 6: 146
[4] صحيح البخاري: كتاب البيوع، باب لا يذاب شحم الميتة ولا يباع ودكه، رقم الحديث: 2223