الصفحة 142 من 389

لئے حرام تھے لیکن وہ شریعت اسلامی میں حرام نہیں ، بلکہ حلال اور جائز ہیں، جن کے جواز کی شریعت میں دلیل موجود ہے۔ ایسے احکام اب اسلامی شریعت کا حصہ ہیں اور شرعی حجت ہیں۔ ان احکام پر عمل سابقہ شرائع کے حوالےسے نہیں بلکہ شریعت اسلامی کے حوالے سے کیا جائے گا، مثلًا

عبادت والے دن کا کاروبار: بنی اسرائیل کے لیےسبت کا دن عبادت کے لئے مقرر کیا گیا تھا اور اس روز ان کے لئے کسی قسم کا دنیوی کام کرنامنع تھا۔ قرآن مجید میں ہے:

{ وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِينَ اعْتَدَوْاْ مِنكُمْ فِي السَّبْتِ} [1]

'' اور یقینًا تمہیں ان لوگوں کا علم بھی ہے جو تم میں سے ہفتہ کے بارے میں حد سے بڑھ گئے-''

جس طرح سبت یعنی ہفتہ کا دن بنی اسرائیل کے لئے متبرک تھا، اسی طرح مسلمانوں کےلئے جمعہ کا دن مبارک ہے لیکن مسلمانوں کےلئے اس روز کاروبار کرنا جائز قرار دیا گیا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ جمعہ کی نماز ہو چکی ہو۔ جمعہ کے اذان سے نماز ادا ہونے تک کاوربار کی ممانعت ہے، جیساکہ ارشاد باری تعالی ہے:

{فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَوٰةُ فَانتَشِرُواْ فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُواْ مِن فَضْلِ اللّٰهِ} [2]

'' پھر جب نماز ہو چکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔''

ناخن والے جانور اور چربی: یہودیوں پر ناخن والے تمام جانور حرام تھے۔ اس کے علاوہ ان پر گائے اور بکری کی چربی بھی حرام تھی، جیساکہ قرآن مجید میں ہے:

{وَعَلَى الَّذِينَ هَادُواْ حَرَّمْنَا كُلَّ ذِي ظُفُرٍۖ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَآ إِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَآ أَوِ الْحَوَايَآ أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍۚ ذَٰلِكَ جَزَيْنَٰهُم بِبَغْيِهِمْۖ وَإِنَّا لَصَٰدِقُونَ} [3]

'' اور یہود پر ہم نے تمام ناخن والے جانور حرام کرد یئے تھے اور گائے اور بکری میں سے ان دونوں کی چربیاں ان پر ہم نے حرام کردی تھیں مگر وه جو ان کی پشت پر یا انتڑیوں میں لگی ہو یا جو ہڈی سے ملی ہو۔ ان کی شرارت کے سبب ہم نے ان کو یہ سزا دی اور ہم یقینًا سچے ہیں۔''

شریعت اسلامی میں امت مسلمہ کے لئے مویشی ، گائے اور بکری وغیرہ کی چربی حلال اور اس کا استعمال کرنا جائز ہے،

[2] الجمعة 62: 10

[3] الأنعام 6: 146

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت