فهرس الكتاب
جیساکہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: { أُحِلَّتْ لَكُم بَهِيمَةُ الْأَنْعَٰمِ إِلَّا مَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ} [1]
'' تمہارے لئے مویشی چوپائے حلال کئے گئے ہیں بجز ان کے جن کے نام پڑھ کر سنا دیئے جائیں گے۔''
شریعت اسلامی میں مویشیوں میں سے جو جانور حرام کیے گئے ہیں ، وہ صرف یہ ہیں:
{حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَآ أَكَلَ السَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ} [2]
'' تم پر حرام کیا گیا مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور جس پر اللہ کے سوا دوسرے کا نام پکارا گیا ہو اور جو گلا گھٹنے سے مرا ہو اور جو کسی ضرب سے مر گیا ہو اور جو اونچی جگہ سے گر کر مرا ہو اور جو کسی کے سینگ مارنے سے مرا ہو اور جسے درندوں نے پھاڑ کھایا ہو لیکن اسے تم ذبح کر ڈالو تو حرام نہیں اور جو آستانوں پر ذبح کیا گیا ہو۔''
مال غنیمت: مال غنیمت جو کہ دشمن سے لڑائی کے بعد اس کا مال قبضہ میں کیا جاتا ہے، یہ مال سابقہ امتوں کے لئے حرام تھا، وہ اسے اپنے استعمال میں نہیں لا سکتے تھے، بلکہ وہ اپنے سارے اموال غنیمت کو ایک خاص مقام پر رکھ دیتے۔ آسمان سے آگ آ کر انہیں بھسم کر دیتی تھی اور ان کے ہاتھ کچھ بھی نہ لگتا تھا۔لیکن شریعت اسلامی میں مسلمانوں کےلئے مال غنیمت حلال کر دیا گیا۔ صحیح بخاری میں حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ (متتوفیٰ 74ھ) سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«وأحلت لي الغنائم ولم تحل لا حد قبلي» [3]
'' میرے لیے غنیمت کے مال حلال کر دیے گئے حالانکہ مجھ سے پہلے کی ( نبی) کےلئے حلال نہ کیے گئے تھے۔''
5.شریعت اسلامی میں موجودہ قوانین سابقہ
وہ احکام جو قرآن مجید یا سنت میں بیان کیے گئے ہیں اور قرآن وسنت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ قرآن و سنت میں مذکور سابقہ شریعتوں کے یہ احکام ہم پر بھی اسی طرح فرض ہیں جس طرح ہم سے پہلے دوسری امتوں پر فرض تھے۔ ایسے احکام بالاتفاق ہمارےلیے شرعی حجت ہیں۔ ان کی مشروعیت کی دلیل شریعت اسلامی ہے۔ شرائع سابقہ کے ایسے تمام احکام جنہیں شریعت اسلامی نے بیان کرنے کے بعد ان کی فرضیت کے بارے میں بھی بتا دیا ہے، وہ شریعت اسلامی ہی کے احکام ہیں، اب ان کا مصدر و ماخذ شرائع سابقہ نہیں بلکہ شریعت اسلامی ہے، مثلا
[2] المائدة 5: 3
[3] صحيح البخاري: كتاب الجهاد، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم أحلت لكم الغنائم، رقم الحديث: 3122