الصفحة 144 من 389

روزہ: روزہ سابقہ امتوں پر بھی فرض تھا اور ہم پر بھی فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

{ يَٰٓأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبلِكُم لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ} [1]

'' اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔''

قربانی: حضرت زید بن ارقم﷜ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے بارے میں فرمایا:

«سنة أبيكم إبراهيم» [2]

''یہ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔''

ختنہ: یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«اختتن إبراهيم عليه السلام وهو ابن ثمانين بالقدوم» [3]

''حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنا ختنہ اسی سال کی عمر میں ایک تیشہ سے کیا۔''

حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«أربع من سنن المرسلين: الختان والعطر والسواك والنكاح» [4]

جامع ترمذی کے میسر نسخہ میں مندرجہ بالا روایت میں لفظ 'الختان' کی جگہ 'الحیاء'آیا ہے، یہ د رست نہیں ہے۔ علامہ عبد اللہ ناصح علوان نے اپنی کتاب"تربية الأولاد في الإسلام"میں"تحفة المودود"کے حوالے سے لکھا ہے کہ الحاملی سے یہ ثابت شدہ ہے کہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اپنے شیخ سے جو حدیث روایت کی ہے اس میں لفظ 'الختان' ہی ہے۔ بعض نسخوں میں"الحیاء"اور بعض"الحناء"درج ہے، یہ دونوں غلط ہیں۔ ( [5] )

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ختنہ کرانا سنت ہے جبکہ جمہور ائمہ ثلاثہ یعنی امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل ﷭ کے نزدیک ختنہ کرانا ہر مسلمان پر واجب ہے۔

[2] سنن ابن ماجه: كتاب الأضاحي، باب ثواب الأضحية، رقم الحديث: 3247

[3] صحيح البخاري: كتاب الأنبياء، باب قوله: {واتخذ الله إبراهيم خليلا} ، رقم الحديث:3356

[4] جامع الترمذی: كتاب النکاح، باب ما جاء في فضل التزويج والحث عليه، رقم الحديث:1101

[5] عبد الله ناصح علوان، تربية الأولاد في الإسلام، حاشية: 1؍ 104

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت