الصفحة 145 من 389

6.ایسے احکام جن کا ذکرہماری شریعت میں بغیر تبصرہ کے کیا گیا ہے

شرائع سابقہ کے احکام کی چھٹی قسم وہ ہے جس کا ذکرقرآن مجید یا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود ہے، لیکن قرآن وسنت دونوں نے نہ ان کا اقرار کیا ہے اور نہ ہی ان کا انکار کیا ہے، یعنی شریعت اسلامی میں ان احکام کی فرضیت یا منسوخی یا ان احکام کے اٹھا لیے جانے کے بارے میں کوئی صراحت موجود نہیں ہیں، بلکہ قرآن وسنت دونوں اس سلسلے میں خاموش ہیں، مثلًا سورۃ المائدہ میں ہے:

{ مِنْ أَجْلِ ذَٰلِكَ كَتَبْنَا عَلَىٰ بَنِيٓ إِسْرَٰٓءِيلَ أَنَّهُ مَن قَتَلَ نَفْسَۢا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعٗا} [1]

'' اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جو شخص کسی کو بغیر اس کے کہ وه کسی کا قاتل ہو یا زمین میں فساد مچانے والا ہو،قتل کر ڈالے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کردیا، اور جو شخص کسی ایک کی جان بچا لے، اس نے گویا تمام لوگوں کو زنده کردیا۔''

اسی طرح سورۃ المائدہ ہی میں ہے:

{ وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَآ أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْأَنفَ بِالْأَنفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاص} [2]

'' اور ہم نے یہودیوں کے ذمہ توراۃ میں یہ بات مقرر کر دی تھی کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور خاص زخموں کا بھی بدلہ ہے۔''

حضرت صالح علیہ السلام کی قوم کےلئے پانی کی تقسیم کا جو حکم نازل ہوا وہ قرآن مجید میں یوں بیان کیا گیا ہے:

{ وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةُۢ بَيْنَهُمْۖ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَر} [3]

'' ہاں انہیں خبر کر دے کہ پانی ان میں تقسیم شده ہے، ہرایک اپنی باری پر حاضر ہوگا۔''

احکام شرائع سابقہ کی اس قسم کے شرعی حجت ہونے یا نہ ہونے کے مسئلہ پر علماے اصول کے دو مؤقف سامنے آئے ہیں۔ کچھ اس قسم کے احکام کی حجیت کے قائل ہیں اور کچھ منکرین۔ ذیل میں ہر دو موقف اور ان کے دلائل کو بیان کیا جاتا ہے:

[2] المائدة 5: 45

[3] القمر 54: 28

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت