فهرس الكتاب
شرائع مَن قبلنا کی حجیت
علماے اصول کا ایک گروہ احکام شرائع سابقہ کو شرعی دلیل او رحجت تسلیم کرتا ہے۔ ان علماء کے نزدیک سابقہ شریعتوں کے جو احکام ہماری شریعت میں بیان کیے گئے ہیں او روہ شریعت اسلامی کی کسی نص سے منسوخ نہیں ہوئے، وہ احکام ہمارے نبی ( کی شریعت ہیں۔ اب وہ سابقہ شریعتوں کے احکام نہیں رہے، لہذا وہ ہمارے لیے حجت ہیں۔البتہ سابقہ شریعتوں کی کتب کی طرف رجوع کرنا جائز نہیں ہے۔ شرائع سابقہ کے احکام معلوم کرنے کے لیے یہود و نصاری کی روایات پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا، اس لئے کہ انہوں نے اپنی کتب میں تحریفات کردی ہیں اور ان کی روایات میں تواتر بھی مفقود ہے لہذا شرائع سابقہ کے بارے میں وہی کچھ معتبر اور قابل اعتماد ہے جو وحی متلو(قرآن مجید) یا وحی غیرمتلو (سنت) کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے۔
قائلین اور ان کے دلائل
شرائع سابقہ کو حجت تسلیم کرنے والوں میں جمہور اصحاب امام ابوحنیفہ ، امام مالک رحمہم اللہ بعض اصحاب شافعیہ او رجمہور حنابلہ شامل ہیں۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے بھی ایک روایت ہے کہ شرائع سابقہ کے جن احکام کا نسخ ثابت نہیں ہے، ان کا اعتبار کیا جائے گا۔ [1] متاخرین میں سے امام شوکانی رحمہ اللہ نے اپنی مایہ ناز تفسیر فتح القدیر میں اسی رائے کی تائید کی ہے۔
قائلین اپنے مؤقف کی حمایت میں جو دلائل پیش کرتے ہیں، ان میں سے چند اہم مندرجہ ذیل ہیں:
قرآن کریم میں ارشاد ہے: { إِنَّآ أَنزَلْنَا التَّوْرَىٰةَ فِيهَا هُدٗى وَنُورۚ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُواْ لِلَّذِينَ هَادُواْ} [2]
''ہم نے تورات نازل کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی-سارے نبی جومطیع تھے، اسی کے مطابق ان یہودیوں کے معاملات کا فیصلہ کرتے تھے۔''
اس آیت کریمہ میں انبیاء کرام علیہم السلام کےمتعلق خبر دی گئی ہے کہ وہ تورات کے مطابق فیصلہ کرتے تھے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ایک ہیں۔ لہذا شرائع سابقہ کے مطابق فیصلہ کرنا ہماری شریعت میں شامل ہے۔
ارشاد ربانی ہے: { ثُمَّ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَٰهِيمَ حَنِيفٗاۖ} [3]
''پھر ہم نے آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف یہ وحی بھیجی کہ یکسو ہوکر ابراہیم کے طریقے پرچلیں۔''
اس آیت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اتباع کرنے کا حکم دیا جارہا ہے۔
[2] المائدة 5: 44
[3] النحل 16: 123