فهرس الكتاب
اللہ تعالی فرماتے ہیں: { وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَآ أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْأَنفَ بِالْأَنفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاص} [1]
''تورات میں ہم نے یہودیوں پر یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت اور تمام زخموں کے لئے برابر کا بدلہ ہے۔''
اس آیت میں تورات میں بیان کردہ قصاص کے قانون کا ذکر کیا گیا ہے لیکن یہ آیت ہماری شریعت میں قصاص کی مشروعیت پردلالت کرتی ہے۔ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سابقہ شریعتوں کی اتباع نہیں کرتے تھے تو پھر اس آیت سے شریعت اسلامی میں قصاص کے وجوب کو ثابت نہیں کیا جاسکتا۔
حضرت عمر بن العاص رضی اللہ عنہ نے رات کو نوافل پڑھنے اور دن کو روزہ رکھنے کو عادت بنا لیا تھا۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی خبر ملی تو آپ نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
"فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا ، وَلاَ يَفِرُّ إِذَا لاَقَى" [2]
پھر حضرت داؤد علیہ السلام کا سا روزہ رکھو وہ ایک دن چھوڑ کر روزہ رکھتے اور دشمن کے ساتھ مقابلے کے وقت کبھی بھاگتے نہ تھے۔
شرائع سابقہ سے استدلال کرنے والے اصولی یہ بھی کہتے ہیں کہ شرائع سابقہ امت مسلمہ کے حق میں حسن و اچھی ہیں اور ان کا ترک کرنا قبیح و برا ہے، کیونکہ جو چیز سابقہ شریعتوں میں اللہ تعالیٰ نے نازل کی تھی وہ بری ہو ہی نہیں سکتی اور جو اس وقت حسن تھی، وہ اب بھی حسن ہے ، بشرطیکہ کسی مصلحت کی بنا پر اس کا حکم شریعت اسلامیہ میں تبدیل نہ کر دیا جائے، چنانچہ ہمارے لیے سابقہ شریعتوں میں اللہ کی راہنمائی موجود ہے ، اس سے استفادہ نہ کرنا اللہ کی راہنمائی کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ اسی کی طرف اس اصولی قاعده میں اشارہ ہے: القديم يترك علي قدمه یعنی ''قدیم کو اس کی قدامت پر چھوڑ دینا چاہیے۔''
منکرین او ران کے دلائل
جو علما شرائع سابقہ کی عدم حجیت کے قائل ہیں ان میں امام ابن حزم، امام غزالی ، فخر الدین رازی، ابن سمعانی، خوارزمی ، ابواسحاق شیرازی،نووی قاضی اسماعیل بن اسحاق مالکی، ابن العربی رحمہ اللہ اور اشاعرہ و معتزلہ شامل ہیں۔شافعیہ کے نزدیک بھی
[2] صحيح البخاري: كتاب الصوم، باب صوم داؤد، رقم الحديث: 1979