الصفحة 148 من 389

یہی مؤقف راجح ہے۔ [1] اس رائے کی تائید المغنی کے مصنف امام ابن قدامہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب نزهة الخاطر میں کی ہے اور اس کے مضبوط دلائل دیے ہیں۔

منکرین شرائع سابقہ اپنے مؤقف کے حق میں درج ذیل دلائل بیان کرتے ہیں:

اللہ تعالی نے فرمایا: { لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةٗ وَمِنْهَاجٗاۚ } [2]

''ہم نے تم (انسانوں) میں سے ہر ایک کے لیے شریعت اور ایک راہ عمل مقرر کی۔''

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ ہر امت کیلئے الگ شریعت ہے، لہذا ایک امت دوسری امت کی شریعت کی مکلف نہیں ہے۔

اللہ کا منشاء یہی ہے کہ مختلف امتیں ہوں اور ان کی الگ الگ شریعتیں ہوں۔

ہرامت کو الگ شریعت اور راہ عمل دینے کا ذکر کرنےکے بعد اللہ تعالی نے فرمایا:

{ وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗ وَلَٰكِن لِّيَبْلُوَكُمْ فِي مَآ ءَاتَىٰكُمْۖ} [3]

''اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک امت بھی بنا سکتا تھا لیکن اس نے یہ اس لئے نہیں کیا کہ جو کچھ اس نے تم کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے۔''

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تورات کا کچھ حصہ دیکھ کر ناراضگی کا اظہار فرمایاتھا۔ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

«لو کان موسى حیا بین أظهر کم ما حل له إلا أن یتبعني» [4]

''اگر موسی علیہ السلام بھی آج تمہارے درمیان زندہ ہوتے تو ان کے لیے میرا اتباع کرنےکے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔''

سابقہ شریعتوں کو حجت تسلیم نہ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ شریعت اسلامی تمام سابقہ شریعتوں کی ناسخ ہے۔ ( [5] )

دلائل کا تجزیہ اور راجح موقف

ڈاکٹر عبد الکریم زیدان شرائع مَن قبلنا کے حوالے سے علمائے اصول کے اختلاف کا تجزیہ کرتے ہوئے فرماتے

[2] المائدة 5: 48

[3] المائدة 5: 48

[4] مسند الإمام أحمد بن حنبل: 3‎؍338

[5] الإحکام في أصول الأحکام: 4‎؍192؛ المستصفی من علم الأصول: 1‎؍‎‎255

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت