فهرس الكتاب
''سچ یہ ہے کہ یہ اختلاف کوئی اہمیت نہیں رکھتا، اس لیے کہ اس سے عمل میں کوئی اختلاف مرتب نہیں ہوتا۔ پچھلی شریعتوں کے احکام میں سے جو حکم بھی اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں اتارا ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے ذکر فرمایا ہے، اس کے ہمارے حق میں منسوخ ہونے یا باقی رہنے کی کوئی نہ کوئی دلیل دوسری جگہ پر ہماری شریعت ہی میں ضرور موجود ہے۔ باقی رکھنے یا منسوخ کرنے کی یہ دلیل خواہ اس نص کے سیاق میں ہو جس نے سابق شریعتوں کا یہ حکم ہمارے لیے بیان کیا ہے یا یہ دلیل کتاب وسنت کی نصوص میں کسی اور مقام پر ہو۔ ہم یہاں اپنے اس قول کی تائید میں یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ قصاص کے متعلق مذکورہ بالا آیت میں جو احکام مذکور ہیں وہ ہمارے حق میں بھی ہیں، منسوخ نہیں ہوئے۔ بعض لوگ یہ دعوی کرتے ہیں کہ زخموں اور اعضاء کا قصاص ہماری شریعت میں نہیں ہے۔ یہ حکم ہم سے پہلے کی شریعتوں میں تھا، اس لیے ہم پر یہ واجب نہیں ہے، یہ بات محض ان لوگوں کا وہم ہے....۔'' [1]
امام ابن قدامہ رحمہ اللہ کی تصنیف المغنی میں مذکور ہے کہ قتل کے علاوہ اعضاء کے قصاص لینے پر بھی مسلمانوں کا اجماع ہے، اگر قصاص لینا ممکن ہو تو۔ [2] '' نیز امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں آیت مذکورہ کے حکم پر عمل کرنے پر امت کا اجماع نقل کیا ہے۔'' [3]
المختصر سابقہ شریعتوں سے استدلال کے حوالے اصولیوں کا جس قدر اختلاف کتب اصول میں مندرج ہے وہ محض نظری ہے، ورنہ عملی پہلو سے تمام وہ امثلہ جن کی نسبت قرآن وسنت میں سابقہ شریعتوں کی طرف بلا تبصرہ کی گئی ہے، خود شریعت محمدی کے دیگر مقامات پر صراحتًا یا اشارۃ اس کی ہمارے حق میں شرعی حکم ہونے کو دین نے بیان کردیا ہے۔
ہ الفاظ دوہرائے: «أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْهُمْ» [4]
[2] المغني: 7؍702، 703
[3] تفسیر ابن کثیر: 2؍ 62
[4] صحيح البخاري: كتاب تفسير القرآن، باب و جاوزنا ببني إسرائيل البحر....، رقم الحديث: 4680