الصفحة 150 من 389

مبحث ہفتم:

عرف وعادت

لغوی تعریف

یہ لفظ عرف یعرف عرفانًا سے ماخوذ ہے۔ عرفان کے معنی' علم' کے ہیں۔ لفظ اعتراف اسی سے ہے۔ [1]

امام راغب رحمہ اللہ نے عرف کے معنی' عرفان 'اور 'معرفت 'کے لکھے ہیں۔ قرآنی آیات کی روشنی میں انہوں نے واضح کیا کہ تفکر و تدبر کے ساتھ کسی چیز کے جاننے کو معرفت و عرفان کہتے ہیں۔

مولانا مجیب اللہ ندوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

لغوی اعتبار سے عرف کا اطلاق متعدد معنوں میں ہوتا ہے۔ بلند اور نمایاں چیز کیلئے بھی عرف استعمال ہوتا ہے اور معرفت جہر و کرم کے لیے بھی۔ بھلے اور پسندیدہ قول و عمل پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے اور کسی کام کے مسلسل اور پے در پے ہونے پر بھی۔ جب کہ عادت کا لغوی معنی طریقہ، طرز اور کسی چیز کے بار بار ہونے یا کرنے کے ہیں۔ یہ لفظ معاودت سے ماخوذ ہے۔ اسی لئے کہا گیا ہے:

"العادة طبيعة ما فيه" [2]

اصطلاحی مفہوم

امام غزالی رحمہ اللہ عرف کی وضاحت ان الفاظ میں کرتے ہیں:

''کوئی فعل یا طریقہ عقلی طور پر لوگوں کے نفوس میں اس طرح جم جائے کہ فطرت سلیمہ اس کو قبول کر لے اور اسلامی دنیا کے سلیم الطبع لوگ اس کے عادی ہو جائیں، بشرطیکہ وہ نص شرعی کے خلاف نہ ہو۔'' [3]

ابن نجیم ہندی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

"العادة عبارة عما یستقر في النفوس من الأمور المتکررة المقبولة عند الطباع"

[2] فقہ اسلامی اور دورِ جدید کے مسائل از مجیب اللہ ندوی رحمہ اللہ: ص 104

[3] المدخل في الفقه الإسلامی: ص 220

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت