فهرس الكتاب
السليمة" [1] "
''عادت سے مراد وہ امور ہیں جو بار بار کے عمل و تعامل سے سلیم الفطرت لوگوں کے دل میں جگہ پکڑ لیتے ہیں اور قبولیت عامہ حاصل کرتے ہیں۔''
عرف کی مختلف تقسیمات
عرف کی تقسیم دو اعتبار سے کی گئی ہے: استعمال اور وضع کے اعتبار سے، نوعیت کے اعتبار سے استعمال اور وضع کے اعتبار سے اس کی دو مزید قسمیں ہیں: عرف قولی، عرف عملی ۔
نوعیت کے اعتبار سے بھی عرف کی دو قسمیں ہیں: عرف عام،عرف خاص
مذکورہ تمام قسموں کا حکم کیا ہے؟ اس اعتبار سے بھی عرف کی دو قسمیں ہی: عرف صحیح،عرف فاسد۔
ذیل میں عرف کی مذکورہ تمام اقسام کی علیحدہ علیحدہ تعریفات کو ملاحظہ کریں:
1۔عرف قولی
اس سے مراد بعض وہ مخصوص الفاظ جو لوگوں کے درمیان خاص معانی میں معروف ہوتے ہیں، یعنی جب وہ الفاظ بولے جاتے ہیں تو ان کا خاص مفہوم ہوتا ہے جو اس مفہوم سے مختلف ہوتا ہے جس کے لیے وہ لفظ لغت میں وضع کیا گیا ہے، جیسے لفظ ولد کا اطلاق لڑکے پر ہوتا ہے لڑکی پر نہیں، لفظ لحم کا اطلاق مختلف جانوروں کے گوشت پر ہوتا لیکن مچھلی کے گوشت پر نہیں۔ لفظ دابہ کا اطلاق صرف چوپائیوں پر ہوتا ہے حالانکہ اس کے لغوی معنی میں ہر وہ جاندار چیز شامل ہے جو زمین پر رینگتی ہو یا حرکت کرتی ہو، جیسے سانپ
یاد رہے کہ مختلف علوم وفنون کی اصطلاحات کا تعلق بھی عرف قولی سے ہوتا ہے۔
2۔عرف عملی
عرف عملی سے مراد وہ کام ہیں جن کے لوگ عادی ہوں، جیسے بغیر معاہدہ ایجاب وقبو ل کے خرید وفروخت کرنا یعنی بیچنے والا خریدنے والے کو اس کے مانگنے پر ایک چیز دیتا ہے او روہ اس کی قیمت ادا کردیتا ہے اور دونوں کے درمیان کو ئی باہمی لکھت پڑھت نہیں ہوتی۔اسی طرح مہر کو دونوں طریقوں یعنی مہر معجل اورمؤجل میں سے کسی ایک طریقہ پر ادا کرنا یہ بھی عرف عملی کی مثالوں میں سے ہے۔
عرف کی مذکورہ دونوں قسمیں (قولی وعملی) کبھی عام ہوتی ہیں اور کبھی خاص۔