فهرس الكتاب
1۔عرف عام
عرف قولی و عملی عام اس وقت کہلاتے ہیں جب تمام اسلامی ملکوں میں ایک جیسے ہوں اور ان ملکوں کے تمام لوگ اس پر چلتے ہوں اور تمام ملکوں یہ عرف عمومی طور پر پھیلا ہوا ہو۔ عرف عملی عام کی مثال کسی کاریگر سے کوئی چیز آرڈر پر بنوانا ہے، جبکہ عرف قولی عام کی مثال لفظ دابہ اور لفظ لحم سے دی جاسکتی ہے۔
2۔عرف خاص
جب یہ عرف ایک ملک میں ہو، دوسرے میں نہ ہویا کسی پیشہ یا صنعت والوں کے ساتھ مخصوص ہوتو اسے عرف خاص کہتے ہیں۔ عرف عملی خاص کی مثال پاکستان میں اشیائے خورد ونوش کی خریداری کے ساتھ آخر میں کچھ اضافی چیز شامل کردینے سے دی جاسکتی ہے، جبکہ عرف عملی عام کی مثال نکاح کے وقت مہر معجل و مؤجل ہے۔
واضح رہے کہ عرف اپنی مذکورہ تمام قسموں کے اعتبار سے صحیح ہوتا ہے یا فاسد۔
1۔عرف صحیح
عرف صحیح سے مراد وہ عرف ہے جو شریعت کی کسی نص کا مخالف نہ ہو اور وہ ایسا نہ ہو کہ جس کے ذریعے کسی حرام کو حلال یا حلال کو حرام کرتا ہو اور کسی دلیل شرعی کے خلاف نہ ہو۔ ایسا عرف قبول کیا جائیگا اور مسائل میں اس کا لحاظ رکھا جائے گا، جیسے عقدِ نکاح کے وقت لوگوں کو مدعو کیا جاتا ہے اور ان میں شرینی تقسیم کی جاتی ہے، ہوٹلوں کے مالک اپنے ملازمین کو دوپہر اور رات کا کھانا اپنے پاس سے کھلاتے ہیں۔ بچے کے تکمیل قرآن کے موقعہ خوشی کے اظہار کے لیے قاری صاحب اور انتظامیہ کو والدین تحائف وغیرہ دیتے ہیں۔
2۔عرفِ فاسد
ایسا عرف جو قرآن و سنت کی نصوص کے خلاف ہو یا کسی حلال کو حرام اور حرام کو حلال کر دیتا ہو، یا اس سے کوئی ضرر پہنچتا ہو یا کوئی مصلحت فوت ہوتی ہو تو ایسا عرف قابل قبول نہیں ہے، جیسا کہ سود خوری، سٹہ یا لاٹری، کمیٹی والی بولی، تاش وشطرنج اور جوئے پر مبنی عادات و رواجات وغیرہ۔
بعض اہل علم'عرف صحیح 'کی مزید دو اقسام بیان کرتے ہیں: عرف صحیح عام، عرف صحیح خاص
1۔عرف صحیح عام
یہ وہ عرف ہے جس پر سبھی علاقوں میں لوگ متفق ہوں۔ احناف کے ہاں اس کے سبب قیاس ترک کر دیا جائیگا۔ وہ اسے 'استحسان بالعرف' کہتے ہیں۔