فهرس الكتاب
2۔عرف صحیح خاص
یہ وہ عرف ہو سکتا ہے جو کسی خاص شہر میں معروف ہو یا لوگوں کے کسی خاص طبقے میں رائج ہو، جیسے تاجروں یا زراعت پیشہ لوگوں کا عرف۔
اسی طرح بعض اہل علم' عرف صحیح' کی یوں بھی تقسیم کرتے ہیں: عرف صحیح قولی، عرف صحیح عملی
1۔عرف صحیح قولی
'عرف صحیح قولی' کی وضاحت یوں کی جاسکتی ہے کہ جو الفاظ اور تراکیب لوگوں میں اس طرح پھیل جائیں کہ بغیر کسی قرینہ اور عقلی ارتباط کے ان سے ایک خاص مفہوم مراد ہو تو ایسے الفاظ اور تراکیب 'عرف صحیح قولی' کہلاتے ہیں ، جیسے لفظ ولد کا اطلاق لڑکے پر ہوتا ہے، لڑکی پر نہیں اور تمام جائز علوم وفنون کی اصطلاحات۔
2۔عرف صحیح عملی
معاملات کی وہ صورتیں جو عملًا لوگوں میں رائج ہوں، جیسے عام لوگوں کیلئے جو حمام بنائے جاتے ہیں ان میں داخل ہو کر نہانا اور داخل ہونے سے پہلے وہاں ٹھہرنے کی مدت اور غسل میں استعمال کیلئے پانی کی مقدار طے نہ کرنا۔ کسی کاریگر یا کارخانے سے جوتے بنوانا۔ بغیر معاہدہ ایجاب و قبول کے خرید و فروخت کرنا۔ اس کو اصطلاح میں 'بیع تعاطی' کہتے ہیں ،یعنی بیچنے والا خریدنے والے کو اس کے مانگنے پر ایک چیز دیتا ہے اور وہ اس کی قیمت ادا کر دیتا ہے۔ دونوں کے درمیان کوئی باہمی عقد نہیں ہوتا۔کرائے کے مکانوں اور دکانوں کا کرایہ ماہوار ادا کیا جاتا ہے۔ ہفتہ وار تعطیل کا رواج۔ [1]
عرف و عادت کی حجیت
قرآن حکیم اور سنت مطہرہ میں عرف اور معروف کے الفاظ کئی مقامات پر آئے ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی شریعت میں عرف و عادت کو تطبیق احکام میں اساسی درجہ حاصل ہے۔ چند آیات کریمہ اور احادیث شریفہ یہ ہیں:
1. { كُتِبَ عَلَيْكُمْ... الْوَصِيَّةُ لِلْوَٰلِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِۖ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ } [2]
''ماں باپ اور رشتہ داروں كے لئے دستور كے مطابق وصیت كردینا فرض کیا گیا ہے۔ متقین پر یہ ایک حق ہے۔''
2. { وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِۚ } [3]
''اور عورتوں کا حق مردوں پر ویسا ہی ہے جیسے دستور کے مطابق مردوں کا حق عورتوں پر ہے۔ ''
3. { وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِۚ} [4]
[2] البقرة 2: 180
[3] البقرة 2: 228
[4] البقرة 2: 233