فهرس الكتاب
''اور ودھ پلانے والی ماؤں کا کھانا اور کپڑا دستور کے مطابق باپ کے ذمے ہو گا۔''
4. { فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِذَا سَلَّمْتُم مَّآ ءَاتَيْتُم بِالْمَعْرُوفِۗ} [1]
''اگر تم اپنی اولاد کو دودھ پلوانا چاہو تو تم پر کچھ حرج نہیں بشرطیکہ تم دودھ پلانے والیوں کو دستور کے مطابق ان کا حق جو تم نے دینا طے کیا تھا، دے دو۔''
5. { وَلِلْمُطَلَّقَٰتِ مَتَٰعُۢ بِالْمَعْرُوفِۖ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ} [2]
''اور مطلقہ عورتوں کو بھی دستور کے مطابق نان و نفقہ دینا چاہئے، پرہیز گاروں پر یہ بھی حق ہے۔''
6. { وَءَاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ مُحْصَنَٰتٍ غَيْرَ مُسَٰفِحَٰتٍ} [3]
''اور دستور كے مطابق ان لونڈيوں كا مہر بھی ادا كرو بشرطیکہ عفیفہ ہوں، نہ ایسی کہ کھلم کھلا بدکاری کریں۔''
7 .اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {وَمَن كَانَ فَقِيرٗا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِۚ} [4]
'' جو نادار ہو وہ دستور کے مطابق یتیم کے مال میں سے لے کر کھا سکتا ہے۔''
8.جن چیزوں سے عرف کا ثبوت ملتا ہے ان میں ایک یہ ہے کہ اللہ تعالی نے قسم کے کفارے کے بارے میں فرمایا: {مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ} [5] یعنی درمیانے قسم کا وہ کھانا جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو۔
9.سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ ہندہ بنت عتبہ نے اپنے خاوند ابو سفیان رضی اللہ عنہ کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ وہ اخراجات میں ہاتھ ذرا کھینچ کر رکھتے ہیں،تو کیا یہ ممکن ہے کہ میں ان کی لا علمی میں کچھ لے لیا کرو؟ اس پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
«خذي ما یکفیك وولدك بالمعروف» [6]
''جتنا تیرے اورتیرے بچوں کے لئے دستور کے مطابق کافی ہو، اتنا لے لے۔''
10.رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام کے بارے میں ارشاد مبارک ہے:
[2] البقرة 2: 241
[3] النساء 4: 25
[4] النساء 4: 6
[5] المائدة 5: 89
[6] صحیح البخاري: كتاب النفقات، باب إذا لم ينفق الرجل فللمرأة ...، رقم الحديث: 5364