الصفحة 161 من 389

أَجْرٌ.»

''جب حاکم فیصلہ کرے اور اجتہاد سے کام لے، اگر (اس کااجتہاد) درست ہوا تو اس کے لیے دو اجر ہیں اور اگر درست نہ ہوا تو اس کے لیے ایک اجر ہے۔ '' [1]

مندرجہ بالا اقتباس سے معلوم ہوا کہ ابن حزم کے نزدیک اجتہاد صرف کتاب و سنت ہی کی نصوص میں غور و فکر کا نام ہے اور راے اور قیاس کے ذریعے اجتہاد ناقابل قبول ہے ؛ اس کی وضاحت آگے آئے گی ۔ اجتہاد کے متعلق اسی نکتے کوایک اور مقام پر ابن حزم نے یوں بیان کیا ہے:

"وقد بينا أن الاجتهاد هو افتعال من الجهد فهو في الدين إجهاد المرء نفسه في طلب ما تعبده اللّٰه تعالى به في القرآن وفيما صح عن النبي صلى اللّٰه عليه وسلم لأنه لا دين غيرهما." [2]

''ہم نے واضح کیا ہے کہ اجتہاد باب افتعال ہے جس کا مادہ جہد ہے ؛ دین میں اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو جس چیز کا پابند کیا ہے ، وہ اپنی پوری کوشش اس چیز کی تلاش میں صرف کر دے جوقرآن اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح طور پر ثابت شدہ احادیث میں ہے کہ دین ان دونو امور کے علاوہ کسی شے کا نام نہیں ہے ۔ ''

اجتہاد کے لغوی اور شرعی مفہوم میں فرق

ابن حزم نے اجتہاد کی لغوی اور اصطلاحی تعریفوں کے بعد ان میں ایک بنیاد فرق کی نشان دہی کی ہے ؛ چناں چہ لکھتے ہیں:

"وإنما قلنا في تفسیر الاجتهاد العام حیث یرجٰى وجوده فعلقنا الطلب بمواضع الرجاء وقلنا في تفسیر الاجتهاد في الشریعة حیث یوجد ذلك الحکم فلم نعلقه بالرجاء لأن أحکام الشریعة کلها متیقن أن اللّٰه تعالىٰ قد بیَّنها بلا خلاف." [3]

''ہم نے اجتہاد کے عمومی ولغوی معنیٰ میں یہ بات کہی ہے کہ جہاں اس چیز کے ملنے کا گمان ہواس جگہ اس کو تلاش کیا جائے پس ہم نے تلاش کو اُمید کی جگہوں سے بھی معلق کر دیا ہے لیکن اجتہاد کی شرعی تعریف میں ہم نے صرف اس جگہ کسی حکم کی تلاش کو اجتہاد کہا ہے جہاں وہ شرعی حکم پایا جاتا ہو اور اسے گمان کی جگہوں سے متعلق نہیں کیا ہے کیونکہ شریعت کے تمام احکامات یقینی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اِن کو خوب اچھی طرح واضح کر دیا

[2] الإحکام فی اصول الأحکام، 7؍114

[3] الإحکام فی اصول الأحکام، 8؍133

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت