فهرس الكتاب
اس سے ابن حزم کا مقصود یہ ہے کہ کتاب و سنت میں تمام مسائل کا یقینی طور پر موجود ہے ، اس لیے اس کے متعلق یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اجتہاد ، حکم شرعی کی متوقع جگہوں میں جہد و کاوش کرنے کا نام ہے بل کہ یہ یقینی مصدر سے تلاش حکم کی محنت سے عبارت ہے ۔
احکامِ شریعت اور علما
ابن حزم کی نظر میں احکام شریعت بالکل واضح ہیں اور عمومی طور سے علما کو معلوم ہیں ؛ وہ لکھتے ہیں:
"فأحکام الشریعة کلها مضمونة الوجود لعامة العلماء وإن تعذّر وجود بعضها علىٰ بعض الناس فمحال ممتنع أن یتعذّر وجوده علىٰ کلهم لأن اللّٰه لا یکلفنا ما لیس في وسعنا وما تعذر وجوده علىٰ الکل فلم یکلّفنا اللّٰه إیاه قط. قال اللّٰه تعالىٰ {لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَاۚ } وقال تعالىٰ: { وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍۚ} وبالضرورة ندري أن تکلیف إصابة مالا سبیل إلىٰ وجوده حرج." [1]
''شریعت کے تمام احکامات عام علما کے لیے موجود ہیں، اگرچہ شریعت کے بعض احکامات کے وجود کا علم بعض لوگوں کے لیے مشکل ہوتا ہے لیکن یہ بات محال اور ناممکن ہے کہ شرعی احکام کے وجود کا علم تمام لوگوں کے لیے مشکل اور ناممکن الحصول ہوکیوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں صرف اسی چیز کا مکلّف بناتے ہیں کہ جس کی ہم طاقت رکھتے ہیں اور جس شرعی حکم کے وجود کا علم تمام لوگوں کے لیے ناممکن الحصول ہو تو اللہ تعالیٰ نے اس کا ہمیں کبھی بھی مکلّف نہیں بنایا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: اللہ تعالیٰ اسی چیز کا انسان کو مکلف بناتے ہیں کہ جس کی وہ طاقت رکھتا ہے ۔ اسی طرح ارشادِ بار ی تعالیٰ ہے: اس نے تمھارے لیے دین کے معاملے میں کوئی تنگی نہیں رکھی ہے۔ اور یہ بات ہم بدیہی طور پر جانتے ہیں کہ جس حکم کو معلوم کرنے کی کوئی صورت نہ ہو تو اس کامکلف بنانا تنگی ہے۔''
پیش آمدہ مسائل کے حل کے مقامات
اجتہاد کی تعریف میں ابن حزم نے نت نئے مسائل کے حل کے لیے حکم شرعی کو اس کے مقامات میں تلاش کرنے پر زور دیا ہے ؛ یہ کون سے مقامات ہیں ؟ اس کا جواب ابن حزم نے یوں دیا ہے:
"اتفق العلماء على أن القرآن وما حكم به رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم أو قاله أو فعلعه أو أقره وقد"