فهرس الكتاب
کر لی گئی۔المستظہر نے ابن حزم رحمہ اللہ کا اکرام کیاا ور وہ وزارت کے منصب پر بھی فائز ہوگئے۔المستظہر کے متعلق ابن حزم کی راے تھی کہ وہ ماہر ادب تھا اور معاملہ فہمی کے ساتھ ساتھ نرم خو انسان تھا۔ [1] چار ہی ماہ گزرے تھے کہ المستظہر کے چچا زاد بھائی محمد بن عبدالرحمٰن المستکفی [2] نے کچھ آوارہ گروہوں کو ساتھ ملایا اور حکومت پر قبضہ کر کے المستظہر کو قتل کر دیا۔مؤرخین کے مطابق یہ ایک نیچ فطرت آدمی تھا۔ابن حزم نے لکھا ہے کہ وہ ایک رذیل شخص تھا جو عورتوں میں گھرا رہتا تھا اور وہی اس پر حاوی تھیں۔اس کی شکل و صورت المستکفی باللہ عباسی سے خاصی ملتی تھی [3] ۔اس کے بعدیحییٰ بن علی بن حمود اور پھر418ھ میں المرتضیٰ کے بھائی ہشام بن محمد بن عبدالملک المعتمد باللہ کی بیعت کی گئی [4] ۔422ھ بمطابق 1030ء میں جہور بن محمد [5] کی سرکردگی میں المعتمد کو بھی برطرف کر دیا گیا اوراندلس میں بنو امیہ کی اڑھائی سو سالہ خلافت کا خاتمہ ہو گیا۔
امویوں کے نظام حکومت سے علیحدگی کے بعد طوائف الملوکی کا دائرہ کار اور بھی وسیع ہوتا چلا گیا ۔علامہ مقری رحمہ اللہ کا اس بابت بیان ہے کہ اموی خلافت کے خاتمے کے ساتھ ہی عربی و عجمی اور بربر سرداروں نے اندلس کو حصہ بقدر جثہ تقسیم کرنا شروع کر دیا۔
یوں اندلس کی اموی خلافت کے بعد بیس کے لگ بھگ حکومتیں قائم ہو گئیں۔ان میں اہم اشبیلیہ،سرقسطہ اور قرطبہ ہیں۔
اشبیلیہ پر بنو عباد کی حکمرانی تھی۔یہ قاضی محمد بن اسماعیل ابن عباد (م433ھ) کی آل اولاد تھی۔ابن عباد کے بعد اس کا بیٹا عباد المعتضد اور پھر بھتیجا المعتمد461ھ سے 484ھ تک حکمران رہا۔المعتمد نے ہی قرطبہ اور اشبیلیہ کی ریاست کو باہم مدغم کیا اور یہی وہ حکمران ہے جس نے ابن حزم کی کتابوں کو جلایا تھا۔
غرناطہ میں بنو مناد (403۔483ھ) کا بول بالا تھا جو اسی سال تک حکمران رہے۔یہ صنہاجہ کا ایک بربری قبیلہ تھا۔ [6]
سرقسطہ پر پانچویں صدی ہجری کے دواران التحبیین (408۔430ھ) اور بنو ہود (431۔503ھ) کی حکمرانی رہی۔اس کے علاوہ طلیطلہ پر بنو ذی النون،بطَلیُوس پر بنو الافطس اور قرطبہ پر بنو جہور نے حکومت کی۔آپس کی لڑائیاں ان ریاستوں میں ہر دم جاری رہا کرتیں اور مزید ضعف اور کمزوری کا باعث ہوتیں۔بالآخراسی داخلی کشمکش اور نا اتفاقی نے عیسائیوں کو دعوت دی اور اندلس کی اسلامی حکومت کا سورج غروب ہو گیا۔
[2] الذخیرة في محاسن أهل الجزیرة،ص80، البیان المغرب في أخبار الأندلس والمغرب،ص3۔14
[3] رسائل ابن حزم الأندلسی،2؍47
[4] جذوة المقتبس،ص28
[5] بنو جہورکاجد اعلیٰ ابو عبدہ حسان 113ھ میں انلس میں داخل ہو۔منصور عامری و مابعد کے دادوار میں اس خاندان کے پاس کئی سرکاری ذمہ داریاں رہیں ۔التاریخ الاندلسی م الفتح الاسلامی حتی سقوط غرناطہ،ص324
[6] الاحاطه في أخبار غرناطه،1؍431