الصفحة 20 من 389

یہ وہ سیاسی حالات ہیں جو ابن حزم کے گرد و پیش رونما رہے اور انہوں نے اس پرآشوب دور میں اخلاص کے ساتھ اسلامی علوم کی راہ میں اپنا رستہ بنایا۔

ابن حزم کی سیاسی زندگی

ابن حزم کے خاندان کا قرطبہ کی سیاست سے گہرا تعلق تھا۔احمد بن سعید بن حزم بن غالب جو ابو عمر (م402ھ) اور اس سے پہلے منصور عامری اور اس کے بیٹے المظفر کے دور میں وزیر کے منصب پر فائز رہ چکے تھے،ابن حزم کے والد تھے۔علامہ حمیدی رحمہ اللہ نے اس بابت یوں ذکر کیا ہے:

"کان وزیرًا في الدولة العامریة و من أهل العلم والأدب والخیر"

یعنی وہ حکومتِ عامریہ میں وزیر رہے اور مخیر اہل علم و ادب شخصیت تھے۔بعد ازاں ابن حزم کے والد مشرقی قرطبہ سے مغربی حصےمیں منتقل ہو گئے،ابن حزم کے بیان کے مطابق وہ خود بھی 399ھ میں والد کے پاس چلے آئے۔ [1]

سیاسی طور پر ابن حزم بنو امیہ کے حامی شمار ہوتے تھے اور ان لوگوں کے ہم خیال تھے جن کے خیال میں اندلس میں مسلمانوں کو اموی پرچم تلے متحد ہونا چاہیے۔404ھ میں وہ المریہ کی طرف جانے کی وجہ یہی تھی،اگرچہ اس کے ساتھ ہی ساتھ تعلیم میں اپنا وقت صرف کرنا اور کتب کی تکمیل بھی اس سفر کا حصہ تھی۔طوق الحمامۃ اور شاطبہ المریہ میں قیام کے دوران ہی مکمل ہو سکیں۔ [2] اموی خلافت کے قیام کے لیے یہ ابن حزم اپنی عملی کوششوں کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ہم نے سمندر کے راستے بلنسیہ کا راستہ لیا اور جب امیر المؤمنین المرتضیٰ کی حکومت قائم ہوئی تو ہم بھی وہی وہیں قیام پذیر ہو گئے [3] ۔بعض روایات سے یہ بھی علم ہوتا ہے کہ خود ابن حزم بھی المرتضیٰ کے وزیر رہے تھے جب کہ وہ قرطبہ کا فرمانروا تھا [4] ۔یاقوت حموی کے بیان کے مطابق طرح ابن حزم کوبنو حمود کے زوال کے بعد المستظہر کے ہاں بھی وزارت حاصل رہی:

"کان الفقیه أبو محمد وزیرا لعبد الرحمٰن المستظهر باللّٰه بن هشام بن عبدالجبار بن عبدالرحمن الناصر لدین اللّٰه" [5]

یہ وزارت اڑھائی ماہ سے زیادہ قائم نہ رہ سکی کیونکہ المستظہر کے چچا زاد بھائی المستکفی نے بغاوت برپا کر کےاسے قتل کر دیا،ابن حزم قید ہوئے اور رہائی کے بعد شاطبہ چلے گئے جہاں ہشام کے بھائی المعتمد کی بیعت ہوئی،یہاں بھی ابن حزم المعتمد کے

[2] أیضًا،ص1

[3] أیضًا، ص118

[4] ابن حزم الأندلسی و رسالة في المفاضلة بین الصحابة،ص25

[5] معجم لأدباء،12؍237

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت