فهرس الكتاب
وزیر مقرر ہوئے۔ [1]
اس تفصیل سے جو بات سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ ابن حزم طوائف الملوکی کے دور میں ایک خاس سیاسی نقطہ نظر رکھتے تھے اور اس پر مضبوط تھے۔وزیر بھی رہے اور اسی موقف کی خاطر قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔البتہ جلد ہی خاندان بنو امیہ کا سورج سرزمین اندلس سے غروب ہو گیا جس کے بعد موصوف کا کسی حکومتی منصب پر متمکن ہونا تاریخ میں مذکور نہیں ہے۔
قرائن بتاتے ہیں کہ اس مختصر لیکن ہنگامہ خیز دورِ سیاست کے بعد وہ کلیتًا علم و تدریس کی طرف متوجہ ہو گئے ۔غالبًا ان کی دور رس طبیعت نے یہ جانچ لیا تھا کہ میدانِ سیاست کے ہنگامے اور میدانِ علم کا سکوت ایک ساتھ لے کر چلنا خاصا دقت طلب امر ہے۔اس صورتحال میں ابن حزم ایسے نابغہ نے ہمہ تن میدان علم کو اپنی توجہ کا مرکز و محور بنا لیا۔
معاشی حالات
عام طور پر ملکوں کی اقتصادی حالت ان کے سیاسی استحکام سے مشروط رہتی ہے۔سیاسی طور پر سکون و اطمینان میسر ہو تو قومیں عمومًا معاشی محاذ پر بھی منزلیں مارتی نظر آتی ہیں۔اس تناظر میں اندلس کے سیاسی حالات کو دیکھا جائے تو وہ ابن حزم کے دور میں بہت تسلی بخش نہیں تھے۔عامریوں کے دور تک معاشی حالات بھی ثروت مندی کی جھلک لیے ہوئے تھے لیکن جیسے ہی طوائف املوکی کی ابتدا ہوئی ،اقتصادی حالت میں ابتری کے آثار واضح ہوتے چلے گئے۔
بنو عامر کےزمانے میں تجارت عروج پر تھی۔اہل اندلس کو باغات لگانے میں خاص مہارت حاصل تھی۔اس کے علاوہ زمینوں کا قابل کاشت بنانے کی سائنسی طریقے مختلف تجربات کے بعد رائج ہو چکے تھے جو خاطر خواہ فائدہ مند تھے سو زراعت مائل بہ ترقی تھی۔ قرطبہ دریائے کبیر کے کنارے شاداب کھیتوں کے درمیان آباد تھا۔ابن سعید المغربی نے لکھا ہے:
'' اہل قرطبہ جب کسی شخص کو کام کاج میں دلچسپی لیتا نہ دیکھتے تو اسے ملامت کرتےا ور یوں مخاطب ہوتے کہ کیااس شخص کو قرطبہ کے قرب و جوار میں کھیت بھی نہیں ملتے جن میں کام کر کے اپنے گزارے کا بندوبست کر سکے!اندلس میں بٹائی پر کاشت کاری کا ایک نظام قائم تھا جس کو مناصفہ کہا جاتا تھا۔اس کے تحت زمین دار اور کاشتکار پیداوار میں نصف نصف کے حصہ دار ہوا کرتے تھے۔'' [2]
اسی کے پہلو بہ پہلو اموی اور عامری دور میں صنعتوں کا ایک وسیع نظام اندلس کے طول و عرض میں قائم تھا جن میں فولاد،تانبا اور کانچ کی صنعتیں شامل تھیں۔اس کے علاوہ قصر منثور کے علاقے میں بلور کی کان کنی بھی ہوا کرتی تھی۔ [3] صنعتوں
[2] مجلۃ العربی،شمارہ95،مقالہ:قرطبہ از ڈاکٹر حسین مونس
[3] مخطوطه في ذکر بلاد الأندلس،د. عبدالحمید عویس