الصفحة 22 من 389

کی ترقی سے مزرور طبقے کی اجرت بھی تسلی بخش تھی ۔باریک کام کرنے والے مزدور نصف مثقال محمدی کے برابر اجرتے لیتے تھے جو ایک سونے کی اشرفی کے برابر تھا جبکہ عام مزدور آدھی اشرفی کےبرابر مزدوری لیا کرتے تھے۔اس زمانے میں ایک عام خاندان پانچ درہم سے زیادہ ماہانہ خرچ کم ہی کیا کرتا تھ کہ اسی میں خوش و خرم بسر ہوا کرتی تھی۔ [1] تجارت کے ضمن میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ قرطبہ میں مختلف بازار قائم تھے جن میں سے ہر بازار ایک مخصوص قسم کے مصنوعات کے لیے خاص تھا مثلاِِ سوتی کپڑوں کا بازار،کاغذ ،گچ،چٹائی کی فروخت کے بازار وغیرہ۔اموی اور عامری دور میں حکام امن و امان کے قیام اور تجارت کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں کے سدباب میں خاصے مستعد اور کامیاب تھے جس کی وجہ سے شہر اور ان کے مضافات خوشحالی کا مرقع بن چکے تھے۔علامہ یاقوت حموی کے بیان کے مطابق 400ھ تک قرطبہ کی یہی حالت تھی۔

خوش حالی اور فارغ البالی کے احوال طوائف الملوکی میں تغیر پذیر ہونا شروع ہو گئے کیونکہ ان کے استحکام کے اسباب و محرکات خود تغیر و تبدل اور تنزل کا شکار ہوتے چلے جا رہے تھے۔عامری دور کے بعد طویل عرصہ طوائف الملوک کا دور ہے جس کے دوران مسلسل خانہ جنگی جاری رہی جس کی وجہ سے تاجروں کا نقصان عام بات تھی۔ قرطبہ اور اس کے احوال بیان کرتے ہوئے خود ابن حزم اس صورتحال کا ذکر کرتے ہیں کہ کیسے فتنے کے زمانے میں مختلف گروہوں نے لوگوں سے زبردستی مال لوٹنا شروع کیا ہوا تھا ۔اسی طرح ظالمانہ ٹیکسوں کا نفاذ بھی کیا جاتاتھا۔ [2] ابن حزم فرماتے ہیں:

"انما هي جزية على رؤوس المسلمین لیسمونها القطیع، ویؤدونها مشاهرة و ضربیة على أموالهم من الغنم والبقر والدواب والنحل یرسم على کل رأس وعلى کل خلیة شیئ ما، وتؤدی على کل ما یباع في الأسواق، وعلى إباحة بیع الخمر من المسلمین في بعض البلاد" [3]

''یہ اہل اسلام پر سیدھا سیدھا جزیہ لگانا تھا جسے قطیع کہا جاتا تھا۔عوام اپنے مال پر خاص ٹیکس ادا کرتے تھے۔یہ ٹیکس بکریوں اور گایوں اور ہر قابل فروخت چیز پر لاگو کیا جاتا تھا،دوسری طرف بعض علاقوں میں شراب کی خرید و فروخت جائز تھی۔''

ابن حزم کے مطابق اس دور میں نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ کسی بھی مال کو حلال کہنا محال تھا خواہ وہ زمین سے نکلنے والا سونا ہی کیوں نہ ہو کیونکہ رزق حلال کے ذرائع ہی مسدود کر کے رکھ دیے گئے تھے۔بربروں کا ذکر اوپر گزر چکا ہے،وہ اس لوٹ مار میں پیش پیش ہوا کرتے تھے۔مورخ مقری بنو جہور کے زمانے میں اہل قرطبہ کا احوال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ان کے

[2] التلخیس لوجود التلخیص،ص173،174

[3] رسائل ابن حزم الأندلسی،2؍176

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت