فهرس الكتاب
مکانات گرا دیے گئے اور بزرگوں کی بے عزتی کی گئی ،طرح طرح کے ٹیکس عائد کیے گئے اور شرفا کو گرفتار کر کے ان سے پیسے بٹورے گئے [1] ۔ان اقتصادی حالات میں ابن حزم نے سیاسی حالات کی طرح معاشی صورت حال کو بھی بہتری سے ابتری کی طرف جاتے دیکھا جن کے اثرات یقینًا ان کے احوال پر بھی مرتب ہوئے،اس کی ایک نظیر ان کا اقتصادی نظریہ ہے جس میں ان کے حالات سے اثر پذیری کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔
ثقافتی ومعاشرتی حالات
ابن حزم کے دور میں سیاست کے علی الرغم ثقافت کے محاذ پر خاصی مختلف صورت حال دکھائی دیتی ہے۔بنو عامر،بنو جہور اور طوائف الملوک کے زمانے میں اندلس کا ثقافتی ورثہ خاصا وقیع تھاا ور اس کا ربط ضبط دیگر بلادِ اسلامیہ کے ساتھ برابر قائم تھا۔یہ فکری اتحاد اس سیاسی کشمکش کے باوجود بھی ٹوٹنے نہیں پایا جو آئے روز کی بدلتی حکومتوں کی صورت میں اندلس میں وقوع پذیر تھا۔ ثقافت میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کا جذبہ روز افزوں تھا اور اس حوالے سے عالم اسلام قرطبہ اور اشبیلیہ عالم اسلام کے بڑے شہروں میں شامل تھے۔موجودہ سرحدوں کی طرح سرحدیں مووجد نہ تھیں اور لوگ انے جانے کے لیے بالکل آزاد تھے،یہ صورتحال تعلیمی اور ثقافتی حوالے سے خاصی سازگار تھی۔تعلیمی اور ثقافتی وفود ایک جگہ سے دوسری جگہ آتے جاتے رہتے تھے اور علماء و شعراء کے ہاں اسناد اور نادر کتب حاصل کرنے کے سلسلے میں مسابقت ہو اکرتی تھی۔ابن بسام نے کتاب الذخیرہ میں ایک حصہ ان اادباء اور علماء کے لیے مخصوص کیاہے جو دیگر ممالک سے اندلس کی طرف اس غرض سے آئے کہ علمی دلچسپیوں اور ادب و فن کی محافل سے بہرہ ور ہوں [2] ۔ابن حزم کے شاگرد حافظ حمیدی کی علمی زندگی عالم اسلام میں مخلتف ممالک و بلاد کے باہمی اتصال و ارتباط کی مثال ہے۔حافظ موصوف نے اندلس،مصر،مکہ ،واسط اور بغداد ایسے شہروں میں تحصیل علم کیا اور ان مقامات پر قیام پذیر بھی رہے۔
قرطبہ میں ثقافت و فن کی ترقی کو مہمیز اس بات سے بھی ملا کہ ایک طرف یورپی عیسائیوں سے مسابقت کا محاذ ان کے سامنے تھا ۔یہ شعور اندلس کے اجتماعی شروع میں بہت تیز تھا ۔دوسری طرف مشرق کے اسلامی ممالک سے مسابقت کا جذبہ بھی ان کے اندر کارفرما تھا کیانکہ دینی کے ساتھس اتھ ثقافتی معاملات میں بھی مشرق خود کو سیادت کے درجے میں خیال کرتا تھا۔اہل اندلس بنو امیہ کے زیر نگرانی تھے جبکہ مشرق میں عباسی خلافت قائم تھی، یہ عنصر بھی مسابقت کی اس فضا کو مثبت طور پر پروان چڑھانے میں مدد گار ثابت ہوا۔ابن حزم کے دور میں عبدالرحمٰن الناصر الحاجب اور ا سکا بیٹا الحکم دونوں ہی اہل ادب و فن کی تکریم کرنے میں معروف تھے۔حکمران فن پرور ہوں تو اہل فن کی صلاحیتیں اور بھی نکھر کر سامنے آتی ہیں۔خود ابن حزم کی روایت کے مطابق الحکم کے علمی ورثے میں جمع شدہ کتب کی تعداد کوئی چوالیس فہرستیں تھیں جن میں سے ہر ایک
[2] بلاغة العرب في الجزائز، الکعاك